کرد فورس نے عراق کے چار قصبے داعش سے چھڑا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے نیم خود مختار صوبہ کردستان کی فورسز نے ملک کے شمال میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے زیر نگین چار دیہات واپس لے لیے ہیں اور داعشی جنگجوؤں کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔

کردستان کی البشمرکہ فورسز کے ایک سینئر افسر نے خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کو بتایا کہ ہمارے فوجیوں نے اربیل کے مغرب میں داعش کے خلاف کئی روز کی لڑائی کے بعد چار دیہات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور جنگجوؤں کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاروں قصبات حسن الشام، سیودیان، بحیرہ اور جسر الخازر کے آس پاس البشمرکہ فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری رہی ہے۔ کرد فورسز نے جنگجوؤں کو شکست دینے کے لیے ہاون راکٹ، بھاری گولہ بارود اور میزائلوں کا بھی بھرپور استعمال کیا ہے جس کے بعد جنگجو فرار ہو گئے ہیں۔

کرد فوجی افسر نے بتایا کہ داعش سے چھڑائے گئے چاروں دیہات موصل کے مشرقی علاقے میں الحمدانیہ شہر کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان علاقوں پر داعش کے جنگجوؤں نے نو جون کے بعد قبضہ کیا تھا جس کے بعد وہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے عراق کے ایم شہر موصل پر قابض‌ ہو گئے تھے۔

ادھر موصل کے مقامی عیسائی پادری کے دفتر سے جاری ایک بیان میں بھی کرد فورسز کی کارروائی میں چار قصبات کے خالی کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ بیان میں پیٹرک لوئیس ساکو کا کہنا ہے کہ سرحدی قصبوں حسن شام اور سیودیان سمیت چار اہم مقامات سے داعش کے جنگجو فرار ہو چکے ہیں اور اب وہاں کرد فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

خیال رہے کہ الحمدانیہ اور برطلہ دیہات میں مسیحی آبادی کی اکثریت آباد ہے۔ اگست کے اوائل میں داعش کے قبضے کے بعد الحمدانیہ سے ہزاروں عیسائی اور دیگر افراد وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ الحمدانیہ، شمالی عراق کے ضلع نینویٰ میں عیسائی آبادی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

کرد فورسز کی جانب سے یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اس کے اتحادی عراق اور شام میں داعش کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں