.

الرقہ: داعش کے جنگجو زیر زمین چلے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولتِ اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجو شام کے شمال مشرقی شہر الرقہ میں امریکا کے فضائی حملوں سے بچنے کے لیے زیر زمین چلے گئے ہیں اور اپنے اس مضبوط مرکز کی سڑکوں پر گشت کرتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔

الرقہ شامی دارالحکومت دمشق سے چارسوپچاس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس شہر میں داعش نے اپنی مکمل حکومت قائم کر رکھی ہے اور تمام کاروبار زندگی انہی کے اشاروں پر چلتا ہے لیکن گذشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے عراق اور شام میں داعش کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد سے انھوں نے خاموش اختیار کرلی ہے اور ہنوز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں توڑ کرنے کے لیے کوئی پالیسی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

عراق میں امریکا کے فضائی حملوں کا سامنا کرنے کے بعد انھوں نے اب اپنے بھاری ہتھیاروں کو چھوڑنا شروع کر دیا ہے کیونکہ ان ہاتھ کے پاس موجود ہونے کی صورت میں وہ بآسانی ہدف بن جاتے ہیں۔ وہ اب شہری علاقوں میں عام لوگوں کے ساتھ گھل مل رہے ہیں تا کہ وہ فضائی بمباری سے بچ سکیں۔ وہ شام میں بھی اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

الرقہ میں داعش نے اپنے زیراستعمال عمارتوں کو خالی کر دیا ہے۔ ان کو وہ دفاتر کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے بھاری ہتھیاروں کی جگہیں بھی تبدیل کی ہیں اور جنگجوؤں کے خاندانوں کو شہر سے باہر منتقل کر دیا ہے۔ الرقہ کے ایک مکین نے بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے ہر کہیں خفیہ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ اب وہ بہت کم اجتماعات منعقد کر رہے ہیں۔

امریکا کے ایک اعلیٰ جرنیل نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں داعش کی بیخ کنی کے لیے مسلسل حملے کیے جائیں گے۔امریکی ڈرون پہلے ہی الرقہ میں داعش کے جنگجوؤں کی فضائی نگرانی کررہے ہیں۔

امریکی صدر کی تقریر کے بعد سے الرقہ میں دکانیں جلد بند کی جارہی ہیں۔اس کے علاوہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔اس صورت حال میں داعش کے جنگجو ممکنہ امریکی حملے کے مقابلے کی تیاری کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مقامی لوگوں کے دل لبھانے اور انھیں اپنا ہم نوا بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

داعش نے چودہ نکات پر مشتمل ایک بیان بھی جاری کیا ہے اور اس میں شامیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ داعش کی حکومت اور ظالم سیکولر حکومت کے درمیان ایک واضح فرق دیکھیں گے۔ اس میں انھوں نے یہ بھی کہا ہےکہ شہری خوشی سے زندگی گزاریں لیکن غلط روی پر انھیں سزاؤں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

ابوظبی میں قائم ڈیلما انسٹی ٹیوٹ کے ایک تجزیہ کار حسن حسن کا کہنا ہے کہ داعش کا بیان ان کی گاجر اور ڈنڈے کی حکمت عملی کا عکاس ہے۔ وہ شامیوں کو بیک وقت یقین دہانیاں بھی کرا رہے ہیں اور انھیں ڈرا دھمکا بھی رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ داعش نے ابھی تک کوئی مناسب ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔انھوں نے اپنی پالیسی مبہم رکھی ہوئی ہے تاکہ لوگوں کو یہ پتا ہی نہ چلے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔