داعش کا گلے کاٹنا اسلام کے خلاف ہے: حسن روحانی

جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے پہلے ایرانی صدر کا انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے داعش کی طرف سے اغواء کیے گئے افراد کے گلے کاٹنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے یہ اسلام سے متصادم ہیں۔

این بی سی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں ایرانی صدر نے کہا ''ایک بے گناہ انسان کا قتل اسلام کی رو سے پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔''

ان کا مزید کہنا تھا '' کسی بے گناہ کا سر قلم کیا جانا قلم کرنے والوں کے لیے شرم کی بات جبکہ پوری انسانیت کے لیے غم اور تشویش کی بات ہے۔''

واضح رہے ایرانی صدر روحانی کے یہ خیالات اس کے بعد سامنے آئے ہیں جب بین الاقوامی برادری نے داعش کے ہاتھوں متعدد افراد کا سر قلم کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

ایرانی صدر نے اس امر پر بھی تنقید کی ہے امریکا نے داعش نے نمٹنے کے لیے زمین پر فوجیں اتارنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایرانی رہنما کا یہ انٹرویو تہران میں ان کی رہائش گاہ پر لیا گیا ہے۔ روحانی اگلے ہفتے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک پہنچنے والے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے متوقع اجلاس کے دوران داعش کے خلاف عالمی اتحاد اور کی جانے والی کوششیں اہم ترین موضوع ہو گا۔

اب تک چالیس ملک داعش کے خلاف کارروائیوں کا حصہ بننے پر اتفاق کر چکے ہیں جبکہ امریکا نے اس اتحاد میں شرکت کے لیے ایران کو دعوت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اس سے ایک ہفتہ پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کی اس پیش کش کو مسترد کر دیا تھا جس میں اس ایشو پر بات کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہہ چکے ہیں کہ '' ہم خطے میں غیر ملکی فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرتے ہیں، کیونکہ ہم غیر ملکی طاقتوں کے اس طرح آنے کو مسائل کو مسئلے کا حل نہیں سمجھتے ہیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں