.

شمالی عراق میں داعش کی پولیس فورس کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمال مغربی صوبے نینویٰ میں دولت اسلامی (داعش) نے مذہبی عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ایک پولیس فورس قائم کردی ہے۔

جہادیوں کی ایک ویب سائٹ پر داعش کی اس نئی پولیس فورس اوراس کے زیراستعمال گاڑیوں کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں۔سفید کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کے بازوؤں پر ''اسلامی پولیس نینویٰ ریاست'' کندہ تھا۔

اس پولیس فورس کو نئی نئی رنگ کی ہوئی کاریں مہیا کی گئی ہیں اور ایک تصویر میں مسلح افراد ایک کشتی پر بیٹھے ہوئے نظر آرہے ہیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ تصاویر کب پوسٹ کی گئی تھیں اور پولیس فورس کا کب قیام عمل میں آیا ہے۔

ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس فورس امن وامان قائم کرے گی،جرائم پیشہ افراد اور بدعنوانوں کو گرفتار کرے گی اور یہ دوسری ریاستوں سے ایک مختلف پولیس فورس ہوگی۔

تاہم نینویٰ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اس پولیس فورس کا بظاہر بڑا فریضہ ان لوگوں کو گرفتار کرنا ہوگا جو داعش کے نصب العین کے مخالف ہیں۔اس پولیس نے شاہراہوں پر چیک پوائںٹس قائم کردیے ہیں اور گھر گھر چھاپہ مار کارروائیاں بھی کررہی ہے۔

داعش نے صوبہ نینویٰ کے دارالحکومت موصل اور صدام حسین کے آبائی شہر تکریت پر جون میں قبضہ کر لیا تھا۔داعش کے جنگجوؤں نے بعد میں شام اور عراق میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اسلامی خلافت قائم کر لی تھی۔وہ اپنے زیر نگین علاقوں میں سخت سزاؤں کا نفاذ کررہے ہیں اور انھوں نے اہل سنت ،اہل تشیع ،عیسائیوں، یزیدیوں اور کردوں سبھی کو بلا امتیاز اپنی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنایا ہے اور تہ تیغ کیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے داعش کے جنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے گذشتہ ہفتے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت عراق اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے جارہے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ماہ شام کی فضائی حدود میں بغیر پائِیلٹ جاسوس طیاروں کی پروازوں کی اجازت دی تھی۔