7000 درہم کے عوض 'وٹس اپ' پر امتحانی پرچہ لیک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امتحان میں موبائل فون کے استعمال کو غیر قانونی قرار دینے کے باوجود 'علمی سرقے' کے دلدادہ اپنے لیے چور دروازے تلاش ہی کر لیتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت عرب روزنامہ 'البیان' کی حالیہ اشاعت میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دبئی میں محکمہ تعلیم کے شعبہ امتحانات سے وابستہ ایک ایشیائی کمپیوٹر آپریٹر نے "وٹس اپ" ایپلی کیشن کی مدد سے ایک طالب علم کو ساڑھے سات ہزار درہم رشوت لے کر پندرہ پرچے لیک کر دیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق پرچے آؤٹ ہونے کے بعد متعلقہ حکام نے کارروائی کر کے کمپیوٹر آپریٹر اور طالب دونوں کو حراست میں لے کر ان کے خلاف فوج داری عدالت میں مقدمہ بھی قائم کر دیا ہے۔

طالب علم پر الزام ہے کہ اس نے شعبہ امتحانات کے ایک شخص کو پانچ سو درہم فی پرچہ کے حساب سے رشوت کے ذریعے امتحانی پرچوں کی تفصیلات فراہم کرنے پر آمادہ کر لیا تھا جس نے بعد میں مبینہ طور پر"وٹس اپ" کے ذریعے اسے امتحان میں آنے والے سوال بتائے تھے۔

تفصیلات کے مطابق دبئی محکمہ تعلیم سے وابستہ غیر ملکی شہری شعبہ امتحانات میں کمپیوٹر آپریٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ سوالیہ پرچوں کی طباعت میں بھی شامل رہا ہے۔ اس نے دبئی کے ایک جرنلزم کالج کے ایک طالب کو پانچ سو درہم فی پرچہ کے حساب سے امتحانی پرچے فراہم کیے تھے جس کے بدلے اسے دو اقساط میں ساڑھے ساتھ ہزار درہم دیے گئے۔

دبئی کی عدالت میں دونوں ملزمان کے خلاف فوجداری قانون کے تحت مقدمہ قائم کیا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں دونوں کو طویل قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں