.

عراق جنگ: سابق آسٹریلوی وزیراعظم اور رکن کانگریس آمنے سامنے

امریکی رپورٹسں غلط تھیں، جان ہاورڈ، تاریخ دوبارہ نہ لکھیں: رکن کانگریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ انہیں عراق میں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق 2003 میں امریکی انٹیلی جنس کی اطلاعات درست نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن سابق آسٹریلیوی وزیر اعظم نے اس امر کی تردید کی ہے کہ صدام کا تختہ الٹا جانا داعش کے سامنے آنے کا سبب بنا ہے۔

جان ہاورڈ 1996 سے 2007 تک وزیر اعظم رہے ہیں۔ انہوں اپنے فوجیوں کو امریکی اور برطانوی فوجیوں کے ساتھ عراق بھیجا تھا کیونکہ انہیں دلایا گیا تھا کہ عراق میں انسانی تباہی کے ہتھیار کے آلات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا امریکی انٹیلی جنس کی اطلاعات کے مطابق وہ سمجھے تھے کہ عراق میں انسانی تباہی کے ہتھیار موجود ہیں اور عراق جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا '' اب معلوم ہوا ہے کہ وہ غلط معلومات اور غلط تجزیہ تھا کیونکہ جنگ کے دوران عراق میں کوئی ایسا ہتھیار نہ ملا تھا۔ ان کا کہنا ہے تھا کمزور بنیادوں کے باوجود ہزاروں عراقی اور غیر ملکی فوجی مارے گئے۔

سابق آسٹریلوی رہنما نے کہا اس وجہ سے انہیں شرمندگی ہے اس لیے وہ کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں ہیں کہ یہ دھوکہ جان بوجھ کر نہیں کھایا تھا۔ انہوں نے کہا یہ درست نہیں کہ عسکریت پسند تنظیم داعش صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے واحد سبب سے وجود میں آئی ہے۔

دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے سابق ذمہ دار اور کانگریس کے رکن اینڈریو ولکی کا کہنا ہے '' آسٹریلیا کے سابق وزیر اعظم تاریخ کو ازسر نو لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں،''

انہوں نے یہ بھی کہا ''واقعہ یہ ہے کہ آسٹریلیا کی اپنی انٹیلی جنس نے جان ہاورڈ کو ایسی بریفنگ دی تھیں جن میں عراق پر حملے کے امریکی اور برطانوی محرکات کا بتایا گیا تھا۔''

امریکی قانون ساز نے کہا یہ جان ہاورڈ کے لیے مناسب نہیں کہ ایک رپورٹ اٹھا کر اس کی بنیاد پر تاریخ کو ازسر نو لکھنا شروع کر دیں۔