.

یمن: حوثی باغیوں کے ساتھ معاہدہ، حکومت مستعفی

باغیوں کا دارالحکومت کے کلیدی مراکز پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی نے باغی حوثیوں کے ساتھ ایک باضابطہ معاہدہ ہو جانے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت وزیر اعظم کی قیادت میں یمنی حکومت سبکدوش ہو گئی ہے، جبکہ اس کی جگہ اب نئی حکومت لے گی۔

صدر کی طرف سے ٹی وی پر معاہدے کے اعلان اور اس پر فوری عمل در آمد کی یقین دہانی کے باوجود حوثی باغیوں نے معاہدے کے فوری بعد دارالحکومت صنعا میں کلیدی مراکز پر قبضہ کر لیا۔ جس سے دارالحکومت میں پر تشدد واقعات شروع ہو گئے ہیں۔

صدر کے مطابق یہ معاہدہ اتوار کے روز عمل میں آیا ہے ۔ اس معاہدے کے مطابق یمنی صدر ایک حوثی رہنما کو سیاسی مشیر بھی مقرر کریں گے۔

بتایا گیا ہے کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے موقع پر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جمال بینومر بھی موجود تھے۔

معاہدے پر دستخط ہونے کے کچھ ہی دیر بعد وزیر اعظم نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا ''دارالحکومت میں باغیوں کے دھرنے اب ختم ہو جانے چاہییں ۔ ''

دوسری جانب معاہدے کے فوری بعد حوثیوں نے دارالحکومت میں سٹریٹیجی کے اعتبار سے کلیدی پوزیشنوں پر قبضہ کر لیا۔ بتایا گیا ہے۔ اس میں اہم حکومتی مراکز اور دفاتر بھی شامل ہوں گے۔

طے پانے والے معاہدے کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا کہنا ہے کہ '' معاہدے کے تحت اقتصادی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ نیز مہنگائی پر قابو پانے، قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام طبقات انتخابی عمل کی تیاری حصہ بنیں گے۔ خیال رہے یمن میں حوثی باغیوں کی وجہ سے بد امنی اب دارالحکومت تک پہنچ گئی ہے۔