.

"غزہ جنگ بندی، مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کم ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر برائے انٹیلی جنس یووال اشٹنٹز نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طویل المیعاد جنگ بندی کےحوالے سے مذاکرات آئندہ ہفتے مصر کی میزبانی میں قاہرہ میں ہو رہے ہیں تاہم وہ ان مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں ‌ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے مقرب سمجھے جانے والے وزیر نے اسرائیل کے جنرل ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب تک حماس غیر مسلح ہونے اور غزہ کو اسلحہ سے پاک علاقہ بنانے پر آمادہ نہیں ‌ہوتی قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کا امکان نظر نہیں آتا۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی می تعمیر نو میں مدد کے لیے حماس کے غیر مسلح ہونے کی شرط رکھی ہے، لیکن مجھے افسوس ہے کہ حماس نے اس اصول کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ غزہ کی پٹی کی فوری تعمیر کے بغیر کوئی طویل المیعاد حل نکالا نہیں‌ جا سکے گا۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز فلسطینی اور مصری عہدیداروں کی جانب سے کہا گیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو مستقل کرنے کے لیے اور عارضی فائر بندی کو طویل المدتی معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے آئندہ ہفتے مذاکرات قاہرہ میں ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے ایک عہدیدار نے بھی ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ بالواسطہ بات چیت مصرکی میزبانی میں قاہرہ میں ہو رہی ہے۔ جنگ بندی سے متعلق نئی بات چیت کے موضوعات حساس نوعیت کے ہیں، ان میں قیدیوں کا تبادلہ، غزہ میں ہوائی اڈے اور بندرگاہ کے قیام جیسی اہم تجاویز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی پٹی میں ‌اکاون روز تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد 26 اگست کو ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس جنگ میں 2100 فلسطینی شہید اور 73 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔