.

اسرائیلی فوج نے دو فلسطینی لڑکوں کو شہید کر دیا

فوج نے صبح سویرے گھر کا محاصرہ فائرنگ شروع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے دو نو عمر فلسطینیوں کو منگل کے روز شہید کر دیا ہے۔ ان دونوں پر اسرائیلی فوج کو شک تھا کہ یہ ماہ جون کے دوران تین اسرائیلی نوجوانوں کی ہلاکت میں ملوث تھے۔

اسرائیل پچھلے کئی ماہ سے ہیبرون کے علاقے میں مروان قواسمہ اور عامر ابوعیشہ کی تلاش میں تھا۔ ان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے تین اسرائیلوں کو ماہ جون میں پکڑ کر مار دیا تھا۔ انہیں مبینہ طور پر ایک یہودی بستی کے قریب مارا گیا تھا۔

الخلیل کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے صبح ہونے سے پہلے ہی ایک گھر کا محاصرہ کر لیا اور وہاں سے گولی چلنے کی آوازیں آئیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لرنر کا کہنا ہے "فوج اور پولیس دونوں ان فلسطینی لڑکوں کی تلاش میں تھیں کہ گولی چل گئی، ہم نے گولی چلائی جوابا انہوں نے فائر کیا اور اسی دوران وہ ہلاک ہو گئے۔"

اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق "ایک کی ہلاکت کی تصویروں سے تصدیق ہو گئی ہے جبکہ دوسرے کی ہلاکت کی ابھی تصدیق ہونا باقی ہے۔"

الخلیل کے فلسطینی گورنر کامل حمید نے دونوں فلسطینی نوعمروں کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ گورنر کے مطابق "ہم اس جرم کی مذمت کرتے ہیں، دونوں بچوں کو جان بوجھ کر شہید کیا گیا ہے۔"

واضح رہے دونوں فلسطینی نوجوانوں کا حماس سے تعلق تھا۔ حماس نے ابتدا میں اسرائیلی نوجوانوں کی ہلاکت کے الزام کو مسترد کر دیا تھا۔ لیکن گذشتہ ماہ اس گروپ نے ذمہ داری قبول کر لی تھی۔