.

داعش کے خلاف شام میں لمبی مہم کی ضرورت ہے :عراق

عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں: ابراہیم الجعفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے کہا ہے کہ عراق سے داعش کا صفایا کرنے کے لیے شام کے مقابلے میں کم وقت لگے گا لیکن مجموعی طور پر داعش کے خلاف لمبی مہم درکار ہو گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے آمد کے موقع پر "العربیہ" سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے۔

ابراہیم الجعفری نے کہا 41 ریاستیں داعش کے خلاف عراق کی پشت پر موجود ہیں، جبکہ مزید بھی عراقی فوج کے ساتھ تعاون کے لیے رابطے میں ہیں۔ عراقی وزیر خارجہ نے مزید کہا عراق داعش کے خلاف مدد کے لیے آنے والوں کا خیر مقدم کرے گا۔ واضح رہے داعش نے تقریبا ایک تہائی عراق کو اپنے قبضے میں کر لیا ہے۔

وزیر خارجہ نے خبردار کیا عراق اس وقت سنگین جنگی صورت حال کا شکار ہے۔ تاہم انہوں نے ایک مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے بعد داعش کے خلاف عرب ممالک کا تعاون بہتر رہا ہے۔

عراقی وزیر خارجہ نے کہا بغداد عرب ممالک کے ساتھ سابق حکومت جیسے تعلقات نہیں رکھے گا بلکہ بہتری لارہا ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب نے بھی بغداد میں اپنا سفارتخانہ از سر نو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔