.

داعش کے خلاف امریکی حملوں میں اردنی فضائیہ بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے امریکا کی قیادت میں شدت پسند تنظیم "داعش" کے خلاف جنگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اردنی فضائیہ شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرے گی تاکہ دہشت گردوں کو ان کے مراکز میں تباہ کیا جا سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اردنی وزیر مملکت برائے اطلاعات اور حکومتی ترجمان محمد المومنی نے خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ "ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کے ساتھ ہے اور دولت اسلامیہ عراق وشام کے خلاف شام میں فضائی کارروائی میں ان کی فوج حصہ لے گی"۔

قبل ازیں ایک امریکی عہدیدار نے اپنا شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ادارے "رائیٹرز" کو بتایا کہ شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے انہیں کئی عرب دوست ممالک بھی بھرپور معاونت فراہم کریں گے۔
خیال رہے کہ اردن کی جانب سے شام میں فضائی کارروائی میں معاونت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اس کے یورپی اتحادی شام اور عراق میں داعش کے خلاف بھرپور کارروائی کے لیے پرتول رہے ہیں۔

درایں اثناء شامی اپوزیشن نے امریکا اور دوسرے ممالک کی جانب سے شدت پسند گروپ دولت اسلامی کے خلاف اعلان جنگ کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری کی توجہ صرف داعش کی سرکوبی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے صدر بشارالاسد پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔

اپنے ایک بیان میں شامی اپوزیشن کونسل کے رہ نما ھادی بحرہ نے کہا کہ "داعش کے خلاف عالمی برادری کی جنگ ہماری ہی جنگ ہے، لیکن عالمی برادری کو شامی عوام کو صدر بشارالاسد کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے مٶثر اقدامات کرنے چاہئیں۔