.

شام میں داعش مخالف امریکی حملے،40 ہلاک

حلب اور اس کے نواح میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ اور داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ان فضائی حملوں کا امریکا نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے اور پہلے روز ان میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اس فضائی کارروائی کے دوران بمبار جنگی طیاروں اور ٹوما ہاک کروز میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے شمالی شہر حلب اور اس کے نواح میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان میں تیس جنگجو اور آٹھ عام شہری مارے گئے ہیں۔ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

امریکی حکام نے بتایا ہے کہ یہ فضائی کارروائی ساڑھے بارہ بجے رات شروع ہوئی۔ کارروائی میں امریکا اور اتحادی شامل تھے۔ کارروائی کا پہلا مرحلہ نوے منٹ تک جاری رہا۔امریکی صدر براک اوباما نے شام میں بھی داعش کو نشانہ بنانے کا فیصلہ اسی ماہ کے شروع میں کیا تھا۔درایں اثناء شام کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے اقوام متحدہ میں شامی نمائندے کو بتا دیا گیا تھا کہ شام کے شمال مشرقی شہر الرقہ میں داعش کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس شہر کو داعش کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے اس آپریشن کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔ ترجمان نے آپریشن میں حصہ لینے والے اتحادی ممالک کا نام بھی ظاہر نہیں کیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اکیلا امریکا یہ آپریشن نہیں کرے گا بلکہ اس کے ساتھ دیگر اتحادیوں کو بھی حصہ لینا ہو گا۔

ادھر شام میں مغربی حمایت یافتہ اپوزیشن گروپ کے سربراہ ہادی بحرہ نے اس فضائی حملے کے فوری بعد مطالبہ کیا ہے کہ تباہی سے بچانے کے لیے بلا تاخیر کارروائی کی جائے۔امریکی سی آئی اے کے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق شام میں داعش کے عسکریت پسندوں کی تعداد 31000 تک ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر اوباما نے گیارہ ستمبر کو نائن الیون کی برسی کے موقع پر تقریر میں کہا تھا "داعش جہاں کہیں بھی ہو گی ہم اس کے پیچھے جائیں گے اور اس کو نشانہ بنائیں گے''۔واضح رہے اس سے پہلے ماہ اگست سے اب تک امریکا عراق میں داعش کے خلاف 190 کارروائیاں کر چکا ہے۔

امریکا کی اپیل پر داعش کے خلاف اب تک اکتالیس ممالک کا اتحاد وجود میں آ چکا ہے۔ اس اتحاد میں متعدد عرب ممالک بھی شامل ہیں۔ تاہم فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف فرانس اپنی کارروائیاں عراق تک محدود رکھے گا۔