.

عراق میں گرنے والے پراسرار ڈرون طیاروں کا مالک کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں امریکا اور اس کے اتحادی دولت اسلامی المعروف "داعش" کے شدت پسندوں کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ایسے میں وقفے وقفے سے تین پراسرار اور نامعلوم ڈرونز طیارے گر کرتباہ ہوئے ہیں، جن کے بارے میں یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ انہیں کس نے عراقی فضاء میں داخل کیا تھا۔

البتہ عراقی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ ڈرونز مبینہ طور پر اسرائیل کی جانب سے عراق کی جاسوسی کے لیے بھیجے گئے تھے۔ ان کی اصلیت کا علم اس لیے بھی نہیں ‌ہو سکا کہ گرنے والے تینوں ڈرونز کا ملبہ عراقی فورسز کے ہاتھ لگنے سے قبل بغداد میں موجود امریکی سفارتی عملے نے انہیں اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور کسی عراقی عہدیدار کو انہیں دیکھنے تک نہیں دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ماہرین کے حوالے سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بغداد ہوائی اڈے کے قریب گر کر تباہ ہونے والا ایک ڈرون طیارہ "ہرمس" نامی اسرائیلی ساختہ جاسوس طیارہ ہے۔ اس کے گرتے ہی امریکی سفارت خانے نے اپنی سیکیورٹی ٹیم کے ذریعے اس کا سارا ملبہ سفارت خانے پہنچا دیا تھا۔ اس سے چند گھنٹے قبل سلیمانیہ میں "کلار" اور واسط میں "الصویرہ" کالونی میں ایسے ہی دو پراسرار ڈرون طیارے گر کر تباہ ہوئے اور ان کے گرتے ہی عراقی سیکیورٹی فورسز کے ان تک پہنچنے سے قبل ہی امریکی سفارت خانے کا عملہ پہنچ گیا اور وہ ان دونوں طیاروں کا ملبہ بھی لے گیا تھا۔ اس ساری صورت حال سے یوں لگ رہا ہے کہ ڈرون طیاروں کی نقل وحرکت کا علم صرف امریکی سفارت خانے کو تھا اور عراقی محکمہ دفاع اور سیکیورٹی ادارے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔

عراقی ذرائع ابلاغ میں ان پراسرار ڈرون طیاروں کے بارے میں تندو تیز بحث جاری ہے۔ اخبارات لکھتے ہیں یہ طیارے اسرائیل کے ہو سکتے ہیں لیکن امریکی سفارت خانے کی جانب سے اس کی تصدیق کے لیے کسی کو انہیں دیکھنے تک نہیں دیا گیا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گر کر تباہ ہونے والے ڈرون طیاروں کے ملبے تک کسی عراقی عہدیدار یا سیکیورٹی ادارے کو رسائی نہ دینے سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ یہ ڈرون اسرائیل ہی کے ہو سکتے ہیں، جو موجودہ حالات میں عراق کی فضائی جاسوسی کر رہا ہے۔

البتہ عراقی حکومت پر ان ڈرونز کے بارے میں 'سکوت مرگ' کی کیفیت طاری ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں۔ عراقی وزارت دفاع کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے آیا ہے اور نہ ہی کسی سیکیورٹی ادارے نے کوئی وضاحت کی ہے۔ یہ پراسرار خاموشی بجائے خود ایک سوالیہ نشان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسے تو عراق پورے کا پورا پچھلے کچھ عرصے سے 'مجموعہ اسرار' بنا ہوا ہے۔ ملک کے سیکیورٹی ادارے، ان کی کارکردگی، حکومت، سیاست اور معیشت غرضیکہ ہر ادارہ چیستاں بنا ہوا ہے۔ اس ساری صورت حال میں یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ گرد و پیش کے ممالک عراق کی موجودہ دگرگوں صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ان میں اسرائیل سرفہرست ہوسکتا ہے،کیونکہ ماضی میں بھی اسرائیل عراق کی جاسوسی کرتا رہا ہے اور اس کے شواہد بھی موجود
عراق کے سینیر صحافی اور اخبار "الدستور" کے چیف ایڈیٹر باسم الشیخ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے مشکوک ڈرون طیاروں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "میرے خیال میں تین ممالک امریکا، ایران اور اسرائیل عراق میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور ڈرون طیارے ان تین ملکوں میں سے کسی ایک کے ہوسکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ابلاغی حلقے یہ خبریں دے رہے ہیں کہ بغداد ہوائی اڈے کے قریب گرکرتباہ ہونے والا ڈرون اسرائیل ساختہ تھا۔ اگر ایسا ہے تو عراق کے محکمہ دفاع کی کارکردگی پر بھی یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ حکومت سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ جب عالمی برادری داعش کو شکست دینے کے لیے متحد ہو رہی ہے ایسے میں کوئی دشمن ملک عراق کی جاسوسی کیسے کرسکتا ہے۔ اگر یہ جاسوسی واقعی اسرائیل کی جانب سے کی گئی تو عراقی محکمہ دفاع کہاں غائب تھا اور امریکا ان طیاروں کا ملبہ کسی کو بتائے بغیر کیسے اپنے سفارت خانے تک لے گیا ہے۔