.

کرد جنگجوؤں سے تصادم، داعش کے 100 عسکریت پسند ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ‌عراق کی سرحد سے متصل کرد اکثریتی علاقے 'کوبانی' اور حلب میں دولت اسلامی کے جنگجوؤں کو کرد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گذشتہ دو روز میں کرد جنگجوؤں اور 'فجر الحریہ' گروپ نے اپنی قوت مجتمع کر کے داعش کے خلاف بھرپور حملے کیے ہیں جن میں داعش کے کم سے کم 100 جنگجو ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں داعش کے جنگجوؤں نے کوبانی کے علاقے میں کرد اکثریتی 60 دیہات پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد وہاں کے مقامی عسکریت پسندوں نے بھرپور جوابی کارروائی کی تیاری شروع کر دی تھی۔ گذشتہ دنوں میں کوبانی اور حلب میں کرد باغیوں کے حملوں میں داعش کے ایک سو جنگجو ہلاک ہوئے۔

کوبانی میں کرد محاذ کے دفتر سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضلع کوبانی کے جنوب مشرقی علاقے میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں میں تنطیم کے کم سے کم 80 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک دوسری کارروائی میں داعش کے 40 جنگجو ہلاک اور ان کے چار ٹینک، چار جیپں، پانچ کاریں اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا ہے۔

قبل ازیں اتوار کے روز کوبانی کے مغربی محاذ پر کرد جنگجوؤں کی کاررووائی میں داعش کے 30 جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ اسی روز ایک دوسری کارروائی میں داعش کے کمانڈر ابو عبداللہ الانباری سمیت 11 جنگجو ہلاک مارے گئے۔ کوبانی سے 26 کلو میٹر مغرب میں سلیم قصبے میں کردوں کی حملے میں داعش کے دو ٹینک اور کئی جنگجوؤں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

درایں اثناء حلب کے مضافاتی علاقوں مارع اور اعزاز میں داعش اور نھروان الشام نامی گروپ کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں۔ نھروان الشام نے دعویٰ کیاہے کہ اس نے مارع میں متمرکز داعش کے جنگجوؤں کی ایک چوکی پر حملہ کر کے داعش کے کم سے کم چھ ارکان کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اس کے علاوہ تل مالد، دابق اور دوسرے قصبات میں بھی داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔