شام میں داعش کے کئی اہم ٹھکانے تباہ: امریکی جنرل

بمباری میں ‌لیزر گائیڈڈ بموں کا استعمال کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما کی منظوری کے بعد شام اور عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے ٹھکانوں پر حملے جاری ہیں۔ شام میں‌گذشتہ روز بمباری میں "ٹوما ھاک" میزائلوں سے لیس ایف 16 اور بی 1 گائیڈڈ میزائلوں سے لیس ایف 22 جنگی طیاروں نے شام کے شہر الرقہ میں داعش اور حلب کے اطراف میں متمرکز النصرہ فرنٹ اور تنظیم خراسان نامی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ فضائی کارروائی میں داعشی جنگجوؤں کو منتقل کرنے والی بسوں اور گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور دونوں شہروں میں عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام میں القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم "خراسان" بھی امریکا کی ہٹ لسٹ پر ہے اور اس کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا کیونکہ اس گروپ نے امریکا میں دھماکوں کےلیے ایک ہوائی جہاز کے ذریعے دھماکہ خیز مواد لے جانے کی کوشش کی تھی۔ امریکی سینٹرل کمان کے ایک اہم عہدیدار جنرل ویلیم میفیل نے بھی خراسان گروپ کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم امریکا اور یورپ سمیت کئی دوسرے مغربی ملکوں کے مفادات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل ولیم کا کہنا تھا کہ شام میں گذشتہ روز داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کے لیے "لیزر گائیڈڈ" میزائل استعمال کیے گئےہیں۔ حملے مکمل معلومات کے حصول کے بعد کیے گئے جو نہایت کامیاب اور نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ جب سے صدر اوباما نے عراق اور شام میں داعش کی سرکوبی کا اعلان کیا تب سے ہی امریکی انتظامیہ خطے کے دوسرے عرب اتحادیوں کو اصرار کے ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی تھی کہ دولت اسلامی کی مسلسل توسیع پسندی ان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے لہٰذا عرب ممالک کا داعش کے خلاف آپریشن میں محوری کردار ہونا چاہیے۔ اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے عرب ممالک بالخصوص اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب نے داعش کےخلاف جنگ میں امریکا کا بھرپور ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عرب ممالک کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ میں شام اور عراق میں کارروائی کی حمایت پر صدر اوباما نے اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ گذشتہ روز نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانگی سے قبل ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ داعش کے خلاف ان کی جنگ جلد کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔

داعش کے خلاف جنگ میں امریکا نے بشار الاسد اور ان کی حکومت کو اعتماد میں‌ نہیں لیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری جو داعش کے خلاف کارروائی کے لیے رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں نے شامی حکومت کو اہداف اور حملوں کے نظام الاوقات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ البتہ انہوں ‌نے اقوام متحدہ میں شامی مندوبہ کو یہ پیغام ضرور دیا کہ فی الوقت عالمی اتحادی فوج کی کارروائی کا ہدف داعش ہے لیکن اگر شامی فوج کی جانب سے جنگی طیاروں کو نقصان پہنچایا گیا تو بشار الاسد کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں ‌گے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا یہ بھی کہنا ہے کہ داعش کے خلاف کارروائی کے حوالے سے زمان ومکان کی کوئی قید نہیں لگائی گئی۔ یہ جنگ ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔ شام میں بشار الاسد کی استبدادی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی صدر براک اوباما فوج کارروائی کے بجائے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ تاہم انہوں ‌نے شامی باغیوں کو مسلح کرنے اور انہیں جنگی تربیت فراہم کرنے کے لیے کانگریس سے منظوری بھی لے لی ہے۔ اس کے باوجود اوباما کو اس بات پر تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے کہ وہ شام میں جاری کشت و خون روکنے کے لیے فوجی کارروائی سے ہچکچا رہے ہیں۔ انہوں ‌نے شامی باغیوں کی عسکری تربیت کا فیصلہ کیا ہے لیکن کیا یہ سوال اپنی جگہ باقی کہ کیا امریکا کی عسکری تربیت سے اعتدال پسند انقلابی فورسز چند ماہ میں‌ بشار الاسد کے خلاف بھرپور زمینی کارروائی کے قابل ہو سکتی ہیں؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں