.

تکریت میں عہد فاروقی کی شہدا یادگار مسمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہذیب وتمدن نے نا آشنا اور خود ساختہ اسلامی شریعت کے پیروکاروں کی نمائندہ دہشت گرد تنظیم "داعش" کے جنگجوؤں نے عراق کے تاریخی شہر تکریت میں فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی کا مزار اور ان کےنام سے مشہور قلعہ مسمار کرنے کے بعد اسی شہر میں بنائی گئی چالیس شہداء کی تاریخی یادگار شہداء اور مزارات بم دھماکوں سے اڑا دیے ہیں۔

"مزارات چہل شہداء و اولیائے کرام" کے نام سے مشہور یہ یادگار خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں تکریت کی فتح کی عظیم نشانی تھی۔ یہ یادگار سنہ637ء میں تکریت کی فتح کے دوران چالیس اہم مسلمان شہداء کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی جو اس معرکے میں کام آئے تھے۔ شہداء میں حضرت عمر فاروق کے آزاد کردہ غلام عمرو بن جنادہ الغفاری بھی شامل تھے۔ یوں اس مقام پر چالیس مسلمانوں کی شہادت کی یادگار کے طور پر ان کے مزارات تعمیر کیے گئے تھے۔

تکریت کے سیکیورٹی اورا بلاغٍی ذرائع کے مطابق داعشی جنگجوؤں نے بدھ کے روز مزارات کی مسماری کی اپنی بری روایت برقرار رکھتے ہوئے چالیس شہداء کی یادگار کو بھی بارود سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں یادگار ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔

تکریت کے ایک مقامی اسکالر اور تاریخی مقامات کے امور کے ماہر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر العربیہ ڈاٹ نیٹ سےگفتگو کرتے ہوئے مسمار کی گئی تاریخی یادگار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ "مزار شہداء چہل اولیا" کے نام سے یہ یاد گار پانچویں صدی ھجری کی آخری چوتھائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب دنیائے اسلام فن تعمیر میں ید طولیٰ رکھتی تھی اور مسلمان معماروں کی فن تعمیر کے دور بلوغت کا ایک بے نظیر شاہکار تھا جس میں اس دور کے فن کاریگری اور اسلامی انجینئرنگ کی عکاسی ہوتی تھی۔ اس دور میں بڑی بڑی مساجد، مدارس، خانقاہیں اور قلعے تعمیر کیے جا رہے تھے۔ ان میں بغداد میں عباسی خلیفہ مستنصر باللہ کے نام سے موسوم مدرسہ مستنصریہ، قاہرہ میں مدرستہ الکاملیہ اور وسطی ایشیا میں مدرسہ سابینا کے نام خاص طور پر مشہور تھے۔ عراقی دانشور نے بتایا شہداء کی یادگار کے طور پر بنائی گئی عمارت کی دیواروں پر ہم نے سنہ 1262ء کے دور کے کندہ کیے الفاظ دیکھے ہیں۔