حماس، فتح میں غزہ میں قومی حکومت کی واپسی پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطین کی دوبڑی جماعتوں حماس اور فتح نے غزہ کی پٹی میں قومی اتحاد کی حکومت کی واپسی پر اتفاق کیا ہے اور اس سلسلے میں دونوں جماعتوں کے درمیان قاہرہ میں دوروزہ مذاکرات کے بعد ایک جامع سمجھوتا طے پا گیا ہے۔

فلسطین کی متحارب جماعتوں نے جون میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں آزاد شخصیات اور ماہرین پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت قائم کی تھی لیکن اس کی غزہ کی پٹی میں عمل داری قائم نہیں ہوسکی تھی۔فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس پر علاقے میں متوازی حکومت چلانے کا الزام عاید کیا تھا۔

حماس نے جواب میں صدر محمود عباس پر غزہ کے پینتالیس ہزار ملازمین کو تن خواہیں ادا نہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔مصری دارالحکومت میں مذاکرات کے بعد فتح کے ایک رہ نما جبریل رجوب نے بتایا ہے کہ ''دونوں جماعتوں کے درمیان غزہ کی پٹی میں قومی اتحاد کی حکومت کی واپسی سے متعلق جامع سمجھوتا طے پاگیا ہے''۔

حماس کے سینیر رہ نما موسیٰ ابو مرزوق اور فتح کے مذاکراتی وفد کے سربراہ عزام الاحمد نے اس سمجھوتے کی تصدیق کی ہے۔ یاد رہے کہ حماس اور فتح کے درمیان 2007ء سے کشیدگی چلی آرہی تھی۔حماس نے فلسطینی علاقوں میں 2006 ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی اور حکومت بنائی تھی لیکن فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور مغربی ممالک کے دباؤ میں آ کر حماس کی اس منتخب حکومت کو ختم کردیا تھا جس کے ردعمل میں حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی الگ خودمختار حکومت قائم کرلی تھی اور وہاں سے فتح کے کارکنان کو ماربھگایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں