.

داعش نے اہلِ دیالا پر عرصہ حیات تنگ کر دیا

دہشت گردوں نے کئی دیہات کو پانی و بجلی کی فراہمی منقطع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے عراق کے صوبے دیالا میں کئی دیہات کے مکینوں کا پانی بند کرنے کے بعد ان کی بجلی بھی منقطع کر دی ہے جس کے بعد شہری شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بعقوبہ شہر سے 70 کلومیٹر دور انتظامی طور پر صوبے دیالا میں شامل "الشیخ باوی" اور اس کے متصل کئی دیہات کی پانی کی پائپ لائن اور بجلی اس وقت کاٹ دی جب مقامی شہریوں نے داعش کی بیعت سے انکار کر دیا۔ متاثرہ قصبوں کے شہریوں اور وہاں پر موجود حکومتی عہدیداروں ‌نے ضلع سلیمانیہ کی انتظامیہ سے بحران کے حل میں مدد کی اپیل کی ہے لیکن صوبے کا بیشتر علاقہ بھی داعش کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

ضلع سلیمانیہ کی حکومت میں شامل نیشنل کرد الائنس پارٹی کے ایک عہدیدار عادل محمد نے بتایا کہ "الشیخ باوی" کے دیہات جلولا میونسپلٹی میں آتے ہیں جن میں کم سے کم 33 ہزار کنبے آباد ہیں۔ ان میں جلولا سے نقل مکانی کرنے والے چھ ہزار خاندان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلولا سے متصل ضلع سلیمانیہ میں کرمیان شہر کی انتظامیہ نے متاثرہ دیہات کو بجلی کی عارضی فراہمی میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جلولا کے ایک دوسرے انتظامی عہدیدار انور حسین نے بتایا کہ داعش کی مسلسل پیش قدمی کے بعد جلولا اور دیگر مضافاتی علاقوں سے 95 فی صد شہری صوبہ کردستان کی جانب نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جو لوگ باقی بچ گئے ہیں وہ یا تو عمر رسیدہ یا معذور ہیں جو چلنے سے قاصر ہیں۔ یہ لوگ نہایت کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور انہیں بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں۔