.

شامی فوج کا دمشق کے نزدیک شہر پر دوبارہ قبضہ

امریکی طیاروں کی شام کی تیل کی تنصیبات پر بمباری ،20 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فوج نے دارالحکومت دمشق کے شمال مشرق میں واقع شہرعذرا پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

اے ایف پی نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے اس شہر پر شامی فوج کے قبضے اور وہاں سے باغیوں کی پسپائی کی اطلاع دی ہے لیکن برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ عذرا میں فوج اور باغیوں کے درمیان ابھی لڑائی جاری ہے۔فوج نے پیش قدمی ضرور کی ہے لیکن ابھی اس کا مکمل کنٹرول قائم نہیں ہوا ہے۔

عذرا پر باغیوں نے گذشتہ دسمبر میں قبضہ کیا تھا اور شامی فوج تب سے اس شہر کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کررہی ہے۔سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ فوج نے جمعرات کو مرکزی شاہراہ اور اس شہر میں واقع انڈسٹریل زون پر قبضہ کر لیا ہے۔تاہم اس ذریعے نے اعتراف کیا ہے کہ شہر کی قدیم آبادی والا حصہ ابھی تک باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔

داعش پر حملے

درایں اثناء امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شام میں داعش کے جنگجوؤں کے زیرقبضہ تیل کی تنصیبات پر جمعرات کو علی الصباح فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق مشرقی صوبے دیرالزور میں امریکی طیاروں نے تیل کی چار تنصیبات اور تین کنوؤں پر بمباری کی ہے۔ان حملوں میں داعش کے چودہ جنگجو مارے گئے ہیں۔

امریکی طیاروں نے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں تیل صاف کرنے والے ایک کارخانے کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس حملے میں کارخانے کے نزدیک رہنے والے عام شہری نشانہ بن گئے ہیں اور ان میں سے پانچ افراد مارے گئے ہیں۔آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

ادھر پیرس میں فرانسیسی وزیردفاع جین ویس لی ڈرائن نے کہا ہے کہ ان کا ملک داعش کے خلاف فضائی حملوں کو شام تک وسعت دینے پر بھی غور کررہا ہے۔اس سلسلے میں اعلیٰ فوجی قیادت کا آج اجلاس ہورہا ہے جس میں داعش کے خلاف فرانس کی فوجی مہم کا جائزہ لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی عراق میں داعش کے خلاف اہم کام کررہے ہیں اور ہم آنے والے دنوں میں نئی صورت حال کا جائزہ لیں گے۔فرانسیسی وزیرخارجہ نے اسی ہفتے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں میں کوئی قانونی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔