.

عبرانی سال نو منانے یہودی مسجد اقصیٰ میں داخل ہو گئے

قبلہ اول کے گرد و نواح میں فلسطینیوں اور یہودیوں میں تصادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں عبرانی سال نو کے موقع پر یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد نے مسجد اقصٰی کا رخ کیا ہے جس کے بعد فلسطینی شہریوں اور یہودی انتہا پسندوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہودی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ میں گھسنے کی کوشش کی لیکن موقع پر موجود فلسطینی شہریوں نے ان کی مزاحمت کی جس کے بعد قبلہ اول کے گرد وپیش کے مقامات میدان جنگ کا منظر پیش کرتے رہے۔ دونوں فریق اس موقع پر ایک دوسرے پر سنگ باری کرتے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز عبرانی سال کے اختتام کے موقع پر سورج غروب ہونے کے قریب یہودی آباد کاروں کا ایک گروپ نعرے لگاتا ہوا مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا، جس کی وجہ سے مسجد میں موجود فلسطینی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے یہودیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق بدھ کے روز عبرانی سال کے پہلے دن کے موقع پر کم سے کم 402 افراد حرم قدسی میں داخل ہوئے۔ ان میں 90 اسرائیلی یہودی تھے جن میں‌سے دو کو ممنوعہ جگہ پرعبادت کے الزام میں‌گرفتار کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے باب الاسباط کے سامنے جمع فلسطینیوں کی ایک ٹولی کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی پولیس نے ان کی طرف بھاری آواز پیدا کرنے والے بم پھینکے۔ پولیس کی جانب سے گذشتہ جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں 50 سال سے کم عمر کے افراد کے داخل پر پابندی لگائی تھی اور یہ پابندی بدستور برقرار ہے۔