.

ڈیوڈ کیمرون: عراق میں کارروائیوں پر تیار، شام بارے خاموش

بشارالاسد کے ساتھ ''ڈیل'' کو بھٹکی ہوئی سوچ قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پارلیمنٹ عراقی حکومت کی درخواست کے بعد عراق میں فضائی کارروائیاں کرنے کی منظوری دے۔

تاہم وزیر اعظم نے اس موقع پر شام میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی جنگی مہم میں عملی طور پر حصہ لینے کا اس کے باوجود کوئی اشارہ نہیں دیا ہے شام میں امریکہ اور اس کے بعض دوسرے اتحادیوں کی فضائی کارروائیاں دوسرے دن میں داخل ہو چکی ہیں۔

واضح رہے برطانیہ افغانستان اور عراق میں امریکی جنگوں کے دوران امریکا کا سب سے سرگرم اتحادی رہا ہے، لیکن گذشتہ سال شام میں فوجی کارروائی کے حق میں برطانوی پارلیمنٹ نے رائے نہیں دی تھی۔

اب جبکہ عراق میں داعش مخالف امریکی فضائی کارروائیوں میں فرانس بھی شام ہونے کا اعلان کر چکا ہے لیکن برطانیہ کا فیصلہ حکومت کے اصولی اتفاق کے باوجود سامنے نہیں آ سکا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ کی ان دنوں تعطیلات جاری ہیں ۔ تعطیلات کے بعد جمعہ کے روز سے پارلیمان کی معمول کی سرگرمیاں بحال ہوں گی۔ توقع ہے کہ جمعہ کے دن کے بعد برطانوی پارلیمنٹ اس حکومتی خواہش اور عراقی حکومت کی درخواست کے بارے میں اپنی منظوری دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے گی۔

ڈیوڈ کیمرون نے 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں مزید کہا '' ہمیں خوف سے اس قدر سکڑنے اور سمٹنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے کوئی ایسا کام بھی نہیں کیا جس سے ہم خوفزدہ ہوں۔''

برطانوی وزیر اعظم کا اصرار تھا '' ہمیں اپنے قومی مفادات کے مطابق کام کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنے عوام اور معاشرے کو بچا سکیں۔'' انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ وقت ہے کہ برطانیہ عملی مرحلے کی طرف آگے بڑھے۔''

داعش کا ذکر کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا '' وہ دنیا کا انتہا پسندانہ تصور رکھتی ہے۔'' ڈیوڈ کیمرون نے اس موقع پر داعش کو شکست دینے کے لیے شامی صدر بشارالاسد کے ساتھ ''ڈیل '' کر لینے کے تصور کی سخت مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا '' اسد رجیم کے مظالم دہشت گردوں کی بھرتیوں کا باعث بنے ہیں، اس لیے جو اسد رجیم کے ساتھ معاملہ کرنے کا سوچتا ہے وہ خطرناک حد تک بھٹکایا گیا شخص ہے۔''