.

سامان زیبائش سعودی خواتین کے لیے خطرے کی گھنٹی

مملکت میں کاسمیٹک انڈسٹری کی سالانہ آمدن تین ارب ڈالر سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں جہاں خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ میک اپ کا سامان استعمال کیا جاتا ہے وہیں خواتین کے لیے یہ انڈسٹری خطرے کا باعث بھی قرار دی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ مملکت سعودی عرب میں سالانہ تین ارب ڈالر مالیت کی کاسمیٹکس کی خریدو فروخت کی جاتی ہے۔

سعودی عرب کے ایوان صنعت وتجارت کی ہیلتھ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عمر العجاجی نے’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میک اپ کے سامان اور آلات کے استعمال کی کوئی ممانعت نہیں مگر اس کے مسلسل اور کم معیاری اشیاء کےاستعمال سے خواتین کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں سعودی عرب میں کاسمیٹک انڈسٹری کسی بھی دوسرے خلیجی ملک کی نسبت زیادہ پھلی پھولی ہے اور اس کا سالانہ کاروبار تین ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے مگرمیک اپ کے سامان کے معیار کی فعال انداز میں نگرانی کی اشد ضرورت ہے تاکہ خواتین کو اس کے منفی اثرات سے بچایا جا سکے۔

ڈاکٹر العجاجی نے کہا کہ خلیجی ممالک میں سالانہ سات ارب ڈالر کی رقم میک اپ سامان پر پھونکی جاتی ہے اور سعودی عرب تین ارب ڈالر کے ساتھ اس میں سر فہرست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں کاسمیٹک انڈسٹری میں سالانہ تین سے چار فیصد ترقی ہوئی ہے جبکہ خلیجی ممالک میں یہ شرح 12 فیصد سالانہ تک جا پہنچی ہے۔ اگلے پانچ سال میں سعودی عرب میں اس میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔