.

شام: اپوزیشن سے مذاکرات کے دروازے بند

دہشت گردی کے ساتھ سیاسی حل برآمد نہیں ہوسکتا:ولیدالمعلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم نے کہا ہے کہ ''شام میں اگر اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو ان کا ملک ساڑھے تین سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے بات چیت شروع نہیں کرے گا''۔

ولیدالمعلم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر میں کہا ہے کہ ''اگر شام میں دہشت گردی جاری رہتی ہے تو ہم سیاسی حل تلاش نہیں کرسکتے ''۔ان کے اس بیان کے بعد شامی بحران کے حل کے لیے فوری طور پر صدر بشارالاسد کی حکومت اور حزب اختلاف کے گروپوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کا امکان معدوم ہوگیا ہے جبکہ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا فریقین کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔

شامی وزیرخارجہ نے مغرب کی تسلیم شدہ حزب اختلاف کے ساتھ امن مذاکرات کو مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''اس کی کوئی ساکھ نہیں ہے اور یہ اپنے مغربی آقاؤں کے احکامات پر چلتی ہے۔اس کے بجائے ہم شام میں ایک ایسی حقیقی اپوزیشن کے ساتھ سیاسی حل کے لیے تیار ہیں جو باہر والوں پر انحصار نہ کرتی ہو''۔

انھوں نے اسلامی جہادی گروپوں کی حمایت کرنے والے ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کا اشارہ بعض خلیجی ممالک کی جانب تھا جو ان کے بہ قول سخت گیر جنگجو گروپوں دولت اسلامی (داعش) اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کو مالی اور عسکری امداد مہیا کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''اسلامی جنگجوؤں کے خطرے سے فوجی حملوں کے ذریعے نمٹا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ ریاستوں کو ان دہشت گرد گروپوں کو اسلحہ اور رقوم مہیا کرنے ،تربیت دینے اور جنگجو اسمگل کرنے سے روکا جائے''۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد میں رکن ممالک سے غیرملکی جنگجوؤں کی شام اور عراق میں آمدورفت،انھیں اسلحہ مہیا کرنے اور امداد دینے سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس قرارداد پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

شامی وزیرخارجہ نے خبردار کیا کہ ''اسلامی جنگجوؤں کی امداد روکے بغیر ایک فوجی مہم سے ایسا بگولا جنم لے گا جو آنے والے عشروں میں عالمی برادری کے وجود ہی کو ختم کردے گا''۔

واضح رہے کہ تہتر سالہ شامی وزیر خارجہ بین الاقوامی سفارتی محاذ پر صدر بشارالاسد کے ترجمان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور انھوں نے اسی سال کے اوائل میں جنیوا میں حزب اختلاف کے ساتھ ناکام مذاکرات میں شامی حکومت کے وفد کی قیادت کی تھی۔وہ شامی حزب اختلاف کے بارے میں اپنے سخت موقف کے لیے مشہور ہیں اور انھیں صدر بشارالاسد کا قریبی معتمد مشیر سمجھا جاتا ہے۔