.

چھ ماہ کے دوران مشرقی یروشلم میں 500 گھر تعمیر

مقبوضہ علاقے میں اسرائیل کی سب سے بڑی تعمیر: سیٹلمنٹ واچ ڈاگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران یہودیوں کو بسانے کے لیے 25 فیصد گھر مشرقی یروشلم کے عرب مقبوضہ علاقوں میں تعمیر کیے ہیں۔ یہ انکشاف ایک این جی او کی طرف سے سامنے لائی گئی سروے رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

یروشلم سٹی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یکم جنوری 2014 سے 30 جون تک 2100 نئے گھروں کی تعمیر پر کام شروع کیا گیا۔ لیکن اس چیز کا ذکر نہ کیا گیا کہ یہ گھر کن علاقوں میں بنائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے اسرائیل کا دعوی ہے کہ پورا یروشلم اسرائیل کا اٹوٹ حصہ ہے۔ لیکن فلسطینی ہی نہیں پوری دنیا اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔

سیٹلمنٹ واچ ڈاگ کے طور پر کام کرنے والے ادارے کے مطابق اسرائیل نے رواں سال کی پہلی ششماہی میں 25 فیصد گھر عربوں کے اسی مقبوضہ علاقے میں بنائے ہیں جو 1967 کی جنگ کے دوران اسرائیل قبضے میں آئے تھے۔

اسی طرح بعد ازاں قبضے میں لیا گیا مشرقی یروشلم کا علاقہ بھی بین الاقوامی برادری اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتی ہے۔ سیٹلمنٹ واچ ڈاگ کے ذمہ دار عرفان کے مطابق ''اس مقبوضہ علاقے میں بنائے گئے گھروں کی تعداد 500 ہے جو حالیہ برسوں کے دوران مقبوضہ علاقے میں بنائے گئے گھروں سے بھی زیادہ ہیں۔''

خیال رہے فلسطینی عوام مشرقی یروشلم کو اپنی اعلان کردہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے اسرائیل کا اس علاقے میں یہودی بستیاں بنانا بین الاقوامی برادری کی تنقید کا باعث بنتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس مقبوضہ علاقے میں تین لاکھ چھ ہزار فلسطینی مقیم ہیں۔ یہ فلسطینی مجموعی آبادی کا 38 فیصد ہیں۔ اس علاقے میں دولاکھ نئے یہودی پہلے ہی بسائے جا چکے ہیں۔