.

داعش نے یرغمال 70 کرد طلبہ کو رہا کردیا

جنگجوؤں کا قریباً 30 طلبہ کو والدین کے حوالے کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولتِ اسلامی عراق وشام (داعش) نے شام میں اپنے زیرِحراست ستر سے زیادہ کرد طلبہ کو منگل کے روز رہا کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ منگل کے روز ان طلبہ کے والدین نے ان کی رہائی اور گھروں کو واپسی کی اطلاع دی ہے۔ان کی عمریں تیرہ اور پندرہ سال کے درمیان ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے شام کے شمالی شہر حلب سے 29 مئی کو اسکول کے ان طلبہ وطالبات کو یرغمال بنا لیا تھا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ داعش نے ان طلبہ کو رہا کرنے کا کیوں فیصلہ کیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے حلب شہر میں اسکول کا امتحان دے کر اپنے آبائی شہر عین العرب واپس جانے والے ایک سوتریپن طلبہ کومنبج کے علاقے میں اغوا کر لیا تھا۔انھیں چارماہ تک اپنے زیرحراست رکھا ہے اور آج ان میں سے نصف کو رہا کردیا ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اغوا کے چند ہفتے کے بعد پانچ بچے یرغمالیوں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔داعش کے جنگجوؤں نے بعد میں دس بچیوں سمیت سینتیس طلبہ کو مرحلہ وار رہا کردیا تھا۔اس وقت بھی قریباً تیس بچے داعش کے زیرحراست ہی ہیں۔ آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق جنگجو ان تیس بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کرنے سے انکاری ہیں اور ان کا کہناہے کہ ان کے والدین یا عزیزواقارب ایک کرد جماعت سے وابستہ ہیں جو داعش کی مخالف ہے۔

واضح رہے کہ عین العرب (کردی زبان میں کوبانی) کے نواح میں اس وقت کرد جنگجوؤں اور داعش کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے حالیہ دنوں میں منبج اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تباہ کن فضائی حملے کیے ہیں۔

کوبانی ترکی اور شام کے درمیان سرحد پر واقع ہے۔ داعش نے اس شہر کی جانب دوہفتے قبل پیش قدمی شروع کی تھی اور اب وہ اس سے تین کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔ داعش کے جنگجو جنوب اور جنوب مشرق کی سمت سے پیش قدمی کررہے ہیں۔گذشتہ دوہفتے کے دوران انھوں نے اس سے اردگرد واقع سڑسٹھ دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔

علاقے میں لڑائی کے نتیجے میں کم سے کم ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد اپنا گھربار چھوڑ کر ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔عین العرب شام میں کرد آبادی پر مشتمل تیسرا بڑا شہر ہے۔اگر اس شہرپر داعش کا قبضہ ہوجاتا ہے تو پھر ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شام کے تمام علاقے پر ان کا کنٹرول قائم ہوجائے گا۔