.

لیبیا: کشیدگی کے خاتمے میں اہم پیش رفت، ہوائی اڈے کھولنے پر اتفاق

عرب لیگ کا مصالحتی مساعی کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں پچھلے کئی ماہ سے جاری سیاسی کشیدگی اور امن وامان کی ابترصورت حال پر قابو پانے کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے اور لیبی پارلیمنٹ میں شامل تمام ارکان نے عسکریت پسندوں کے زیرکنٹرول بین الاقوامی ہوائی اڈے کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل سوموار کوغدامس شہر میں پارلیمنٹ کے ارکان کا اقوام متحدہ کے مندوب برنارڈینو لیون کی نگرانی میں‌ اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بن غازی اور مصراتۃ کے ارکان پارلیمنٹ بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر تمام ارکان نے شورش زدہ شہروں میں انسانی امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے اور طرابلس اور بنغازی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے دو طرفہ فضائی آمدو رفت کے لیے کھولنے پر اتفاق کیا۔

خیال رہے کہ لیبیا میں‌ جاری سیاسی و سیکیورٹی کشیدگی کے جلو میں پارلیمنٹ کے ارکان پر مشتمل اجلاس پچھلے کئی روز سے وقفے وقفے سے ہوتا رہا ہے مگر بعض شہروں کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا تھا۔ تاہم گذشتہ روز تمام ارکان اجلاس میں موجود تھے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے "یو این" مندوب برنارڈینو نے بتایا کہ تمام فریقین ملک میں بات چیت کے ذریعے سیاسی عمل دوبارہ شروع کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ گذشتہ روز ہوئے اجلاس میں فریقین نے کئی ماہ سے بند ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے اور کشیدگی کا شکار شہروں میں امدادی کارروائیاں بحال کرنے پراتفاق کیا ہے، جوکہ اہم پیش رفت ہے۔

مسٹر لیون کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ لیبیا میں‌ جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اپنی مفاہمتی مساعی جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبی پارلیمنٹ کے متحارب دھڑوں کے ترجمان حضرات نے جلد ہی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی امید بھی ظاہر کی ہے اور فریقین نے مفاہمتی عمل آگے بڑھانے میں لچک کا مظاہرہ کرنے کا یقین دلایا ہے۔

گذشتہ روز کے اجلاس میں طے پایا کہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے عیدالاضحیٰ کے بعد بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق لیبیا کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی دھڑے ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے اسلحہ کے استعمال کے بجائے بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں اور بات چیت ہی کو مسئلے کےحل کا بہترین راستہ سمجھتے ہیں۔

عرب لیگ کا خیرمقدم

لیبیا میں کشیدگی کے خاتمے کے حوالے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونی والی بات چیت میں اہم پیش رفت پر عرب لیگ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عرب لیگ میں لیبیا کے مندوب عاشور بوراشد نے اپنے ایک بیان میں‌ کہا ہے کہ عرب لیگ غدامس شہر میں سوموار کے روز پارلیمنٹ کے تمام ارکان پر مشتمل مفاہمتی اجلاس اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوششوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔

ابو راشد کا مزید کہنا تھا کہ لیبیا کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں اور بات چیت کے ذریعے ریاستی اداروں کی تشکیل ہی ملک کو انارکی سے بچا سکتی ہے۔ عرب لیگ لیبیا میں ہونے والی مفاہمتی کوششوں اور بات چیت کا خیرمقدم کرتی ہے۔ عرب لیگ میں لیبی مندوب نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنے فروعی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کو متحد رکھنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے کے خلاف اسلحے کے استعمال کا راستہ ترک کردیں۔