.

نیتن یاہو حقائق سے بیگانہ شخص ہے:حنان اشراوی

اسرائیل برائی اور دہشت گرد ، حماس آزادی کی تحریک ہے: ترجمان حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادی فلسطین نے اسرائیلی وزیر اعظم کو حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا مرتکب قرار دیا ہے اور کہا کہ حماس کا داعش کے ساتھ تقابل نیتن یاہو کی حقائق کو مسخ کرنے کی مہارت کا اظہار ہے۔

واضح رہے بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دواران غزہ میں ہزاروں شہریوں کو شہید کرنے اور ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کرنے پر کسی شرمندگی کا اظہار کرنے کے بجائے حماس اور داعش کو ایک جیسا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

تنظیم آزادی فلسطین کا نیتن یاہو کی الزامات پر مبنی تقریر کے بارے میں کہنا ہے '' یہ حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنے کی ایک اندھی کوشش تھی۔ تاکہ وہ عالمی رہنماوں کو گمراہ کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں بدزبانی بھی کی، غلط گوئی بھی کی اور مخبوط الحواسی کا مظاہرہ بھی کیا۔ ''

پی ایل او کی ایگزیکٹو ممبر حنان اشراوی نے اس امر کا اظہار اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کیا ہے۔ اشراوی نے اپنے بیان میں مزید کہا ''اس تقریر سے یہ حقیقت اور بھی آشکار ہو گئی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ حقائق سے تعلق کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ''

حنان اشراوی نے کہا ''نیتن یاہو کی حقائق سے بیگانگی کا اس سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ناجائز قبضے اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام اور اپنی فوج کے جنگی جرائم کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ''

فلسطینی خاتون رہنما نے کہا حد یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے 8 جولائی سے مسلط کردہ اپنی پچاس روزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کا بھی انکار کر دیا۔''

خیال رہے غزہ پر مسلط کردہ اس پچاس روز کی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے 2140 فلسطینی شہید کیے، ہزاروں گھر تباہ کیا ، حتی کہ مساجد، سکول اور ہسپتال بھی جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور اقوام متحدہ کے اداروں پر بھی بمباری کی۔

حنان اشروای کے بقول اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ جرائم تسلیم کرنے کے بجائے حماس اور محمود عباس دونوں کو قابل مواخذہ قرار دے دیا۔''

جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا '' حماس نے اسرائیل کے رہائشی علاقوں میں راکٹ فائر کیے، یہ جنگی جرم ہے، جس محمود عباس تم اور تمہارے حکومتی شراکت دار حماس والے ذمہ دار ہیں۔'' یاہو نے یہ بھی الزام لگایا کہ '' حماس اور داعش کا ایک ہی انتہا پسند مذہب سے تعلق ہے۔''

ادھر غزہ میں حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے کہا ہے '' نیتن یاہو نے حماس اور داعش کو ایک ہی سکے کے دو رخ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ حماس اپنی قومی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی تحریک ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں اسرائیل دنیا میں برائی ، قبضے اور دہشت گردی کی ایک طاقت ہے۔''