.

ایران: لبنان کے لیے فوجی گرانٹ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے لبنانی فوج کے لیے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے ڈائریکٹر علی شام خانی نے بیروت میں منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''اسلامی جمہوریہ نے لبنانی فوج کو ملٹری گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے''۔

لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ گرانٹ کس نوعیت کی ہوگی اور اس میں کیا کیا چیزیں شامل ہوں گی۔ایک سفارتی ذرِیعے کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیردفاع بہت جلد اپنے لبنانی ہم منصب سے ایسے ہتھیاروں کی فہرست تیار کرکے فراہم کرنے کا کہیں گا جو لبنانی فوج کو درکار ہیں۔

علی شام خانی نے بیروت میں لبنانی وزیراعظم تمام سلام اور سپیکر نبیہ بیری سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات کی ہے اور ان سے عسکری شعبے میں دوطرفہ تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

لبنانی فوج کو ملک میں امن وامان کے قیام اور پڑوسی ملک شام سے درآنے والے سنی جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے امریکا اور سعودی عرب بھی نقدی اور عسکری سازوسامان کی شکل میں امداد دے رہے ہیں۔

لبنانی فوج شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے سے سنی جنگجوؤں کی آمد کو روکنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔گذشتہ ماہ لبنانی فوجیوں اور شام سے آنے والے سنی جنگجوؤں کے درمیان سرحدی قصبے عرسال میں خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔شامی جنگجوؤں نے عرسال کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور مقامی قبائلی عمائدین اور علماء کی مداخلت کے بعد ان کا عرسال سے انخلاء ممکن ہوسکا تھا۔

شام اور عراق میں سخت گیر سنی جنگجوؤں کی جماعت دولت اسلامی (داعش) کی حالیہ مہینوں کے دوران میدان جنگ میں فتوحات کے بعد لبنان ،ایران اور سعودی عرب میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔اس جنگجو گروپ سے نمٹنے کے لیے امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کے علاوہ سنی عرب ریاستیں اور ایران اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اب وہ شام اور عراق میں ان کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کررہے ہیں جس کے بعد انھوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں سے پسپا ہونا شروع کردیا ہے۔

تاہم شام سے تعلق رکھنے والے سنی جنگجو گروپ اور لبنان میں ان کے اتحادی لبنانی فوج پر شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا آلہ کار بننے کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔ایران حزب اللہ کی بھی مالی ،عسکری اور سفارتی مدد کررہا ہے اور اس طاقتور شیعہ تنظیم کے ہزاروں جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغی مسلح گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔