.

کردفورسز کا داعش پر تین اطراف سے حملہ

موصل سے شمال اور کرکوک سے جنوب میں واقع تین قصبوں پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی علاقوں میں کرد فوجیوں نے دولت اسلامی (داعش) کے خلاف تین اطراف سے نئے حملوں کا آغاز کیا ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کے ایک کمانڈر کے مطابق فوجیوں نے منگل کو علی الصباح شمالی شہر موصل سے شمال مغرب میں ایک سو کلومیٹر دور واقع قصبے رابعہ پر حملہ کیا تھا اور نواحی دیہات السعیدیہ اور محمودیہ پر قبضے کے بعد رابعہ میں داخل ہوگئے ہیں۔یہ قصبہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع کی ہے۔

البیش المرکہ نے عراق کے سب سے بڑے ڈیم کے نزدیک واقع قصبے زمار پر بھی حملہ کیا ہے۔انھیں توپ خانے اور جنگی طیاروں کی مدد حاصل ہے۔جون کے اوائل میں داعش کے موصل پر قبضے کے وقت رابعہ اور زمار پرالبیش المرکہ نے قبضہ کر لیا تھا لیکن ڈیڑھ ایک ماہ بعد انھیں داعش کے جنگجوؤں نے مار بھگایا تھا۔

عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل کی جانب داعش کے جنگجوؤں کی پیش قدمی کے بعد ہی امریکا نے 8 اگست کو داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔اب فرانس اور برطانیہ کے جنگی طیارے بھی داعش کے جنگجوؤں کو فضائی بمباری میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

البیش المرکہ نے اس فضائی مدد کے بعد شمالی شہر کرکوک سے جنوب کی جانب بھی پیش قدمی کی ہے۔انھوں نے دو دیہات سعد اور خالد پر قبضہ کر لیا ہے اور شدید لڑائی کے بعد وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو مار بھگایا ہے۔

کرد فورسز کے ایک جنرل وسطہ رسول کا کہنا ہے کہ اب ان کے فوجی کرکوک سے جنوب میں قریباً تیس کلومیٹر دور واقع گاؤں الواحدہ کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں لیکن وہاں انھیں داعش کے جنگجوؤں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔