.

حمص میں سلسلہ وار بم دھماکے، بچوں سمیت31 ہلاک،74 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وسطی شہر حمص میں بدھ کو سلسلہ وار دو زور دار بم دھماکوں میں کم سے کم 31 افراد ہلاک اور 74 زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی بتائی جاتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق حمص کے گورنر طلال البرازی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ بم دھماکے دو اسکولوں کے قریب ہوئے جس کے نتیجے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔

طلال البرازی کا کہنا تھا کہ حمص میں دو میں سے ایک خود کش کار بم دھماکہ تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔ بم دھماکے میں مرنے والے بچوں کی عمریں 06 سے 09 سال کے درمیان تھیں۔ قبل ازیں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ حمص میں اسکولوں پر ہونے والے بم حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔ بعد میں ہلاک اور زخمیوں کی تعداد زیادہ بتائی گئی ہے۔

شام میں میدان جنگ کی صورت حال پر نظر رکھنے والی تنظیم انسانی حقوق آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ دھماکے اس قدر شدید تھے ان کی آواز دور دور تک سنی گئی اور انسانی اعضاء کئی سو میٹر کی جگہ پر پھیل گئے تھے۔ رامی کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن کا کہنا تھا کہ یہ دھماکے قطنہ کالونی میں ہوئے، جہاں پر زیادہ تر تعداد صدر بشارالاسد کے وفاداروں کی بتائی جاتی ہے۔

ادھر شام کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو حمص میں دو الگ الگ بم دھماکے ہوئے۔ ایک بم دھماکہ اسکول کے قریب اس وقت ہوا جب بچے اسکول ہی میں تھے، جبکہ دوسرا دھماکہ حمص کے ایک اسپتال کے قریب ہوا ہے۔ خیال رہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے حمص میں عکرمہ اور قطنہ سمیت کئی دوسری کالونیوں میں دھماکے ہو چکے ہیں جن میں صدر بشارالاسد کے وفاداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس سے قبل حمص میں جون اور جولائی میں اسی نوعیت کے دو کار بم دھماکے کیے گئے تھے۔ جون میں ہوئے دھماکے میں ‌12 اور 25 مئی کو الزھراء کالونی میں ہونے والے ایک سو فراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حملوں کی ذمہ داری القاعدہ کی ذیلی تنظیم النصرہ فرنٹ نے قبول کی تھی۔