.

داعش نے شام میں نو مرد، تین خواتین کے سرقلم کر دیے

شہریوں کو خوف زدہ کرنے کی گھناؤنی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد گروپ"داعش"نے شمالی شام کے شہر الکردیہ میں مقامی آبادی کی مزاحمت روکنے اور انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے نو مردوں اور تین خواتین کو ذبح کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم"آبزرویٹری برائے انسانی حقوق" کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ داعشی جنگجوؤں نے کرد اکثریتی علاقے کوبانی سے کئی مرد و خواتین اور اپنے مخالف جنگجوؤں کو یرٍغمال بنا رکھا ہے۔ ان میں سے تین خواتین، چار شامی اپوزیشن اور پانچ کرد مزاحمت کاروں کو منگل کی شام نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا۔

انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ داعشی جنگجوؤں نے پکڑے گئے ان بارہ افراد کے سرقلم کیوں کیے ہیں۔ البتہ ایسے لگ رہا ہے کہ داعش کو مقامی آبادی کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور عوام کو خوف زدہ کرنے کے لیے یہ سفاکانہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ داعش کے ہاں مخالفین کے گلے کاٹنے کی غیرانسانی روایت کوئی نئی نہیں۔ تنظیم کے ہاتھوں اب تک ایسے سیکڑوں واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ داعشی جنگجوؤں کے خیال میں ان کی ہر بات پتھر پر لکیر ہے اور کسی کو ان سے اختلاف کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔ جس نے اختلاف کیا تو اسے اپنی جان دے کر اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

شام اور عراق میں داعش کے مظالم سے تنگ شہریوں کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجو عوام پر اپنا رعب طاری کرنے کے لیے یرغمال بنائے گئے افراد کو بھرے مجمع میں بھیڑ بکریوں کی طرح‌ ذبح کرتے ہیں۔