.

شام: سرحدی کرد قصبے کی طرف داعش کی پیش قدمی

انتہا پسند بھاری اسلحے سے لیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے عسکریت پسند شام اور ترکی کی سرحد پر واقع کرد قصبے عین العرب کی طرف سے تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

سرحد کے نزدیک اس اہم قصبے پر قبضے کے لیے داعش نے تقریبا دو ہفتے قبل یلغار شروع کی تھی۔ اب تک داعش اس کے ارد گرد کے 67 دیہات پر قبضہ کر چکی ہے، جبکہ قصبے کا دفاع کرنے والے کرد عسکریت پسند پسپائی پر مجبور ہو رہے ہیں۔

لندن میں شام کی صورت حال کو مانیٹر کرنے والے ادارے ہیومن رائیٹس آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق ''اس وقت داعش سے حقیقی خوف ہے کہ اس کے عسکریت پسند عین العرب جس کا کرد نام کوبانی میں جلد داخل ہو جائیں گے۔''

واضح رہے داعش کی یہ پیش قدمی امریکی قیادت میں اتحادی فورسز نے بدھ کے روز کم از کم پانچ فضائی کارروائیوں کے محض چند گھنٹوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان کارروائیوں میں کم از کم آٹھ عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں اور داعش کا ایک ٹینک تباہ ہوا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق کرد جنگجووں نے امریکا اور اتحادیوں کی طرف سے اس بمباری کے دوران انسانی لاشوں کو ہوا میں اچھلتے دیکھا تھا۔'' لیکن رامی عبدالرحمان کے بقول '' ان فضائی حملوں کے باوجود داعش کے جہادیوں کی پیش قدمی جاری ہے۔

واضح رہے اس جگہ سے ترک سرحد صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران اس علاقے میں پندرہ دنوں کی شدید ترین لڑائی دیکھنے میں آئی ہے۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ''داعش کی مزاحمت کے لیے موجود کردوں کی دفاعی صلاحیت کمزور ہے، ان کی تعداد تھوڑی اور ان کے پاس خیال رہے اسلحہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ داعش بھاری اسلحے کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہے، داعش کے پاس موصل سے قبضے میں چھینا گیا عراقی اسلحہ بھی ہے اور بھاگنے والی عراقی فوج سے چھینا اسلحہ بھی موجود ہے۔''

آبزرویٹری کی فراہم کردہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کرد جنگجووں کو داعش نے پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ کرد جنگ جو قصبے کے مضافات میں مغرب کی طرف جا رہے ہیں۔ جبکہ قصبے کے اندر موجود کرد جنگجو گلیوں میں داعش کے ساتھ لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں۔

مقامی کرد لیڈر انور مسلم نے رامی عبدالرحمان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا '' یہ درست ہے کہ کردوں اور داعش کے درمیان اس قصبے کے ارد گرد طاقت کا توازن اچھا نہیں ہے بلکہ اسلحے کا توازن داعش کے حق میں ہے۔ انور مسلم نے امریکا اور اس کی اتحادی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ "داعش کی پیش قدمی روکنے کے لیے داعش پر فضائی حملے جاری رکھ کے کردوں کی مدد کی جائے۔"