.

عراق : داعش کا الانبارکے قصبے ہیت پر قبضہ

حملوں اور جھڑپوں میں 17 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 60 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی ( داعش) کے جنگجوؤں نے عراق وشام میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں کی تباہ کن بمباری کے باوجود برسرزمین پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور انھوں نے جمعرات کو عراق کے مغربی صوبے الانبار کے قصبے ہیت پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ ان کے حملوں اور جھڑپوں میں سترہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم سے کم ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

الانبار کی صوبائی کونسل کے ایک رکن عدنان الفہداوی نے جمعرات کو بتایا ہے کہ ہیت کے نوّے فی صد حصے پر داعش کے جنگجوؤں کا کنٹرول ہوچکا ہے۔قبل ازیں داعش نے ہیت کے علاوہ صوبائی دارالحکومت رمادی میں دو فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے سترہ اہلکار مارے گئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق ہیت میں پولیس ہیڈ کوارٹرز پر حملے میں سات پولیس اہلکار اور چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔رمادی میں آرمی بیس پر حملے میں چھے وفاقی فوجی مارے گئے ہیں۔عراقی فورسز کے سینیر افسروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے رمادی میں داعش کے جنگجوؤں کا حملہ پسپا کردیا ہے اور مذکورہ دونوں شہروں میں جھڑپوں میں بیس،بیس جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے بدھ کو بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ''ہم نے داعش کے خطرے پر قابو پالیا ہے لیکن ابھی اس بات کی سوفی صد ضمانت نہیں دے جاسکتی کہ ان کا خطرہ ختم ہوگیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''داعش کے خطرے سے ایران سمیت علاقائی ممالک اور عالمی برادری متاثر ہوئی ہے۔اس وقت مجھے ایک بین الاقومی چھتری درکار ہے اور میں یہ نہیں جانتا کہ مستقبل قریب میں کیا ہوگا''۔