.

عراقی پائلٹوں کی غلطی،خوراک اور اسلحہ داعش پر گرادیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فضائیہ کے پائلٹوں نے گذشتہ ماہ برسرزمین موجود فوجیوں کو امدادی
سامان پہنچانے کے دوران سنگین غلطی کا ارتکاب کیا تھا اور انھوں نے
فوجیوں کے بجائے داعش کے جنگجوؤں پر خوراک ،پانی اور اسلحہ گرادیا تھا۔

اس بات کا انکشاف عراقی پارلیمان کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کے رکن حکیم
الزاملی نے العربیہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ
عراقی فضائیہ کے پائلٹوں نے داعش کے محاصرے کا شکار بریگیڈز 1 اور 30 کے
فوجیوں کو اسلحہ ،خوراک اور دیگر امدادی سامان پہنچانا تھا لیکن ان کے
بجائے انھوں نے یہ امدادی سامان داعش کے جنگجوؤں پر گرا دیا تھا۔

العربیہ کے سسٹر چینل الحدث کی اطلاع کے مطابق یہ واقعہ 19 ستمبر کو
مغربی صوبہ الانبار میں پیش آیا تھا اور عراقی حکومت نے اس کی تحقیقات
شروع کردی ہے۔عراقی فاؤنڈیشن برائے ترقی اور جمہوریت کے صدر غسّان عطیہ
نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''داعش پر سامان گرانے
والے پائلٹ یا تو ناتجربہ کار تھے،انھیں خفیہ اطلاعات نہیں تھیں یا پھر
یہ ایک فنی غلطی تھی''۔

انھوں نے کہا کہ ''فضائی حملوں کو موثر اور ٹھیک بنانے کے لیے جدید آلات
اور برسرزمین درست انٹیلی جنس معلومات درکار ہوتی ہیں تاکہ داعش کے اہداف
کا سراغ لگایا جاسکے''۔ان کا کہنا تھا کہ ''ان طیاروں کو برسرزمین انٹیلی
جنس معلومات نہیں تھیں،انھیں اہداف کا ٹھیک ٹھیک پتا لگانے کے لیے اضافی
فیچرز کی بھی ضرورت تھی''۔

اربیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار علی عبدالامیر نے پائلٹوں کے
ناقص تجربے کو واقعے کا ذمے دار قراردیا ہے۔انھوں نے الحدث کو بتایا کہ
''ان میں سے بیشتر ہوابازوں کو تو ملازمتیں چھوڑ جانے کے کافی عرصے کے
بعد دوبارہ ڈیوٹیوں پر طلب کیا گیا تھا''۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت عراقی
فوج کی ناقص کارکردگی کے ذمے دار جنرلوں کو برطرف کرکے گھر بھیج دے اور
ان کے خلاف تحقیقات کی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ امریکی رپورٹس کے مطابق عراقی فورسز کا ایک چوتھائی
حصہ اہل ہے لیکن دراصل یہ نام نہاد عراقی فوج کے شرم ناک چہرے کو ملمع
کاری کے ذریعے خوبصورت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ درست نہیں ہے۔عراقی
فورسز کا کوئی وجود نہیں ہے۔عراقی آرمی ختم ہوچکی ہے اور ہمارے پاس جو
کچھ ہے،وہ ملیشیائیں ہیں جو رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

واضح رہے کہ عراق کے نئے وزیراعظم حیدرالعبادی نے حال ہی میں مسلح افواج
میں اصلاحات کے تحت دو اعلیٰ جرنیلوں کو جبری ریٹائر کردیا ہے۔عراقی فوج
کو ملک کے شمال میں جون میں داعش کے جنگجوؤں کی چڑھائی کے بعد سے اندرون
اور بیرون ملک سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔موصل اور دوسرے شہروں پر داعش کے
حملے کے وقت عراقی فوجی اپنا اسلحہ اور وردیاں چھوڑ کر میدان جنگ سے بھاگ
گئے تھے۔