.

امریکی شہری داعش مخالف کردوں کی مدد کو پہنچ گیا

شام پہنچ کر زخمی ہو گیا، کرد ترجمان کی طرف سے تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے خلاف برسر پیکار کرد عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک امریکی شہری بھی شامل ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکی جنگی طیارے داعش کی پیش قدمی روکنے کے لیے کارروائیاں کر کے شام اور عراق میں کردوں کی مدد کر رہے تھے۔

کردوں کے بڑے مسلح گروپ کے ترجمان امریکی شہری کے کردوں کی مدد کے لیے آنے کی اطلاع دی ہے۔ ترجمان کے مطابق جارڈن مستون نے کرد کے تحفظ کے لیے سرگرم وائی پی جی میں شمولیت کی ہے۔ واضح رہے یہ کرد گروپ شام میں داعش کی پیش قدمی روکنے کے لیے سرگرم ہے۔

وائی پی جی کے ترجمان نے اپنے ایک آن لائن پیغام میں کہا '' ہاں یہ درست ہے کہ امریکی شہری ہمارے ساتھ آیا ہے اور یہ شام کے شمال مشرقی قصبے جذا کے علاقے میں لڑائی میں مصروف ہے۔'' خیال رہے یہ علاقہ عراقی سرحد کے قریب ہے۔

پچھلے ماہ کی پندرہ دنوں پر پھیلی ایک جھڑپ میں اس کرد عسکری گروپ کے 35 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ جذا نامی قصبے کی حفاظت کرنے والے اس گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے داعش کے سینکڑوں عسکریت پسند ہلاک کر دیے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ مستون نے ایک کرد خبر رساں ادارے کو اپنی آن لائن تصاویر کے لیے ایک لنک بھیجا ہے اور اس میں بتایا ہے کہ وہ ایک امریکی شہری ہے۔

اس تصویر میں ایک مسکراتا نوجوان ہے اور عسکری وردی پہنے ہوئے ہے اور اس کے علاوہ اس نے سر پر سیاہ رومال باندھ رکھا ہے۔ سولہ ستمبر کو اپنے فیس بک پر ایک پیغام میں اس امریکی نے لکھا تھا'' باس میں شام کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ اس ہفتے فیس بک پر اس نے کہا اب وہ شام میں ہے اور ایک لڑائی کے دوران زخمی ہوا ہے لیکن زیادہ زخمی نہیں ہے۔