.

داعش نے شام میں یرغمال برطانوی شہری قتل کر دیا

ڈیوڈ کیمرون، اوباما کا انتقام لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" نے مغربی باشندوں کے بہیمانہ قتل کی سفاکانہ روایت برقرار رکھتے ہوئے شام میں یرغمال بنائے گئے برطانوی شہری آلن ہینگ کو قتل کر دیا ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور امریکی صدر باراک اوباما نے آلن کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتلوں کو جلد بدترین انجام سے دوچار کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "داعش" کی جانب سے آلن ہینگ کے قتل کی ایک ویڈیو فوٹیج انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ہے جسے امریکی ویب پورٹل"سائیٹ" نے بھی نشر کیا ہے۔ آلن کو چند ہفتے قبل امریکی صحافی جیمز فولی اور ایک دوسرے برطانوی شہری قتل کے طریقہ کار کے مطابق ہی قتل کیا گیا۔ ویڈیو فوٹیج میں سیاہ لباس میں‌ ملبوس ایک نقاب پوش دہشت گرد تیز دھار خنجر سے آلن کا سرتن سے جدا کر رہا ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے آلن ہینگ کے داعش کے ہاتھوں قتل کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ آلن کو نہایت سفاکانہ انداز میں قتل کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کو اس قتل کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

اپنے ایک بیان میں وزیراعظم کیمرون کا کہنا تھا کہ آلن ہینگ جو شام میں ایک امدادی کارکن کے طور پر کام کر رہا تھا کو کچھ عرصہ قبل داعشی جنگجوؤں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ اس پر داعش کی جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا اور الرقہ میں اس کے خلاف ایک خود ساختہ اسلامی عدالت میں مقدمہ بھی چلایا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے آلن کو بری کردیا گیا تھا اور کے باوجود داعشی دہشت گردوں نے اسے نہایت بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔

مسٹرکیمرون نے کہا کہ میری تمام ہمدردیاں مقتول شہری آلن ہینگ سے محبت کرنے والوں کے ساتھ ہیں بالخصوص میں مقتول کی بیوہ آلن باربرہ اور اس کے بچوں کے ساتھ اس مشکل وقت میں مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آلن کا صرف اتنا قصور تھا کہ وہ شام میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مدد کررہا تھا۔ درندہ صفت داعشی جنگجوؤں نے ایک معصوم شہری کو قتل کیا ہے۔ اب انہیں اس کی بھاری قیمت بھی چکانا ہے۔

امریکی صدر کا ردعمل

مغوی برطانوی شہری کی داعش کے ہاتھوں بہیمانہ قتل پر امریکی صدر باراک اوباما نے بھی سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آلن ہینگ کے قاتلوں کو جلد عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ قاتلوں کو جواب دینا ہو گا کہ وہ بے گناہ شہریوں کو نہایت بے دردی اور سفاکیت کے ساتھ کیوں‌ کر قتل کرتے رہے ہیں۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ مغوی شہریوں کے سفاکانہ قتل سے داعش کے خلاف عالمی اتحادیوں کی جنگ متاثر نہیں ہو گی بلکہ ایسے واقعات داعش کو جلد انجام سے دوچار کرنے میں مہمیز کا کام دیں‌ گے۔ بیان میں کہا گیا کہ آلن ہینگ کا سفاکانہ قتل داعش کی سفاکیت کی ایک تازہ مثال ہے۔

ادھر امریکی صدر کی خاتون مشیر برائے انسداد دہشت گردی لیزا موناکو نے کہا ہے کہ واشنگٹن آلن ہینگ کے قتل سے متعلق سامنے آنے والی ویڈیو کی تصدیق کی کوشش کررہا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ داعشی خون خواروں نے آلن کو قتل کر دیا ہے تویہ دولت اسلامیہ کی دہشت گردی کی ایک نئی مثال ہو گی۔ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے بھی برطانوی شہری کی داعش کے ہاتھوں ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سفاکانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

مقتول کی بیوہ کا بیان

درایں اثنا شام میں مبینہ طورپر داعشی جنگجوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والے برطانوی رضاکار آلن ہینگ کی بیوہ کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر کو کئی ماہ قبل داعش نے شام میں یرغمال بنا لیا تھا۔ اس پر داعش کی جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا اور ایک اسلامی عدالت میں اس کے خلاف جاسوسی کا مقدمہ بھی چلایا گیا تھا۔ عدالت نے آلن کو بری قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم عدالتی احکامات کے برعکس داعشی جنگجوؤں نے اس کے شوہر کوقتل کر دیا۔

آلن باربرہ کا کہنا تھا کہ چند روز پیشتر اس کے یرغمال شوہر کی جانب سے ایک صوتی پیغام موصول ہواتھا جس میں اس نے اپنی جان بچانے کے لیے حکومت اور برطانوی عوام سے مدد کی اپیل کی تھی۔ بابرہ کا کہنا ہے کہ آلن کا قتل میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ جب داعش کی اپنی ایک عدالت نے اسے بری قرار دیا تھا اس کے بعد اسے یرغمال بنانے یا قتل کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچا تھا۔