.

عراق: داعش نے فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا: پینٹاگان خاموش

موصل کی واپسی کے لیے آپریشن کیا جائے گا: امریکی خصوصی نمائندہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے عسکریت پسندوں نے راکٹ لانچر کی مدد سے عراقی فوج کا حملہ آور ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔ ہیلی کاپٹر پر سوار پائلٹ اور اس کا ساتھی دونوں ہلاک ہو گئے ہیں۔

عراقی فوجی حکام نے اس واقعے کے بعد داعش کی فضا میں ہدف لینے کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے '' امریکی قیادت میں جاری کارروائیوں سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں بہتر ہوئی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ عراقی فوج کا نشانہ بننے والا ہیلی کاپٹر بیجی نامی قصبے کے باہر تباہ ہوا ہے۔۔ یہ قصبہ تکریت شہر کے قریب ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان محمد العسکری کے مطابق ہیلی کاپٹر پر سوار دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایک سرکاری ذمہ دار نے عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا '' ہیلی کاپٹر ایم آئی 35 بیجی اور سینیہ کے درمیان پرواز کر رہا تھا۔ عراقی فضائیہ کے ایک ذمہ دار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے'' پائلٹ اور شریک پائلٹ دونوں ہلاک ہو گئے ہیں۔''

واضح رہے بیجی بغداد سے شمال میں 130 میل کے فاصلے پر ہے۔ اس قصبے میں عراق کی سب سے بڑی آئل ریفائنری ہے۔ ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کو سوشل میڈیا میں بھی کافی نمایاں جگہ ملی ہے۔

عراق میں داعش کے عسکریت پسند پچھلے جون سے شمالی اور مغربی علاقوں میں مضبوط ہیں۔ ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے واقعے سے داعش کی طیارہ شکنی کی استعداد کا بھی اندازہ ہوتا ہے، تاہم امریکی پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈ مرل نے داعش کے ہاتھوں عراقی فوج کے ہیلی کاپٹر کی تباہی پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا ''ہم صورت حال کا جائزہ لیں گے۔''

ادھر عراق کے دورے پر آئے امریکی صدر کے خصوصی نمائندہ رائے عراق جان ایلن نے کہا ہے کہ '' داعش سے موصل واپس لینے کے لیے بھی آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا عراقی فوج کے حربی نقصان کی وجہ قیادت کی سطح پر مسائل کا ہونا ہے۔

خصوصی نمائندے نے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی طرف سے سنی قبائل کو شامل کرتے ہوئے نیشنل گارڈز کی بھرتیوں کے اقدام کو قابل تعریف قرار دیا۔