.

عید الاضحی مصر کے سبزی خوروں کو خوفزدہ کرنے کا ذریعہ

کئی قربانی کے باعث قاہرہ سے باہر چلے جاتے ہیں: گارجین رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عیدالاضحی کے موقع پر جب دنیا بھر کے مسلمان سنت ابراہیمی ادا کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں جانوروں کو قربان کرتے ہیں مصر کے بعض سبزی خور قربانی کے ان مناظر اور اللہ کی راہ میں بہائے جانے والے خون سے آنکھیں چرانے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔

یہ بات برطانیہ کے ممتاز اخبار گارجین نے اپنی ایک رپورٹ کا موضوع بنائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عیدالاضحی کے بعد قاہرہ کی بھری پری گلیاں بکری ، دنبے ، گائے اور اونٹ کے وغیرہ کے بہتے خون سے لتھڑی ہوتی ہیں۔

شہر کے قصاب اپنے خون آلود مخصوص لباس کی بنیاد پر دور سے پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن یہ خون ان لوگوں کو خوفزدہ کرتا ہے جو گوشت کے بغیر ہی اپنے روزمرہ میں خوراک کا اہتمام کرتے ہیں۔

پچیس سالہ اعلی شرشر نے اپنی خوفزدگی کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا۔'' میں اپنے بچپن سے ہی ایسے موقع پر قاہرہ سے باہر چلے جانے کا عادی ہوں۔''

اس کے مطابق ''مجھے بچپن کے وہ مناظر یاد ہیں جب ہر چیز مجھے خون آلود نظر آتی تھی، اور ہر طرف ایک بدبو محسوس ہوتی تھی، جو مجھے بے چین کر دیتی تھی۔''

دوسرے سبزی خور بھی ایک آسان وقت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ الزینی نہ صرف سبزی خور ہے بلکہ رمضان المبارک کے دوران روزہ داروں کی افطاری کے لیے سبزیوں کا بھی اہتمام کرتا ہے۔

اس نے گارجین کو بتایا '' گوشت نہ کھانا ایک مشکل طرز زندگی نہیں ہے، کیونکہ بہت سے مزیدار مصری پکوان گوشت کے بغیر ہی تیار ہوتے ہیں۔''

ماہر ماحولیات احمد الدورغامی گوشت کے استعمال کی مہم چلاتے ہیں۔ انہوں نے گارجین سے بات کرتے ہوئے کہا '' مصر کے لوگ سماجی وجوہ کی بنیاد پر زیادہ گوشت کھانے پر مجبور ہوتے ہیں، بعض خاندانوں اور سماجی حلقوں میں گوشت کھانے کو جوانمردی کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔''