.

جنوبی وزیرستان:ڈرون حملے میں 5 افراد ہلاک

میزائل حملے میں کسی بڑے ہدف کو نشانہ بنایا گیا ہےٗ:مقامی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق امریکی ڈرون نے اتوار کو جنوبی وزیرستان کی تحصیل شوال کے علاقے کنڈغر میں ایک مکان پر دو میزائل داغے ہیں۔مرنے والوں میں دو غیرملکی بھی شامل ہیں۔ کنڈغر کا علاقہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع ہے۔

امریکی ڈرون نے جنوبی وزیرستان میں یہ میزائل حملہ ایسے وقت میں کیا ہے جب اس کے پڑوس میں واقع شمالی وزیرستان میں پاکستان آرمی کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) اور دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف ضربِ عضب کے نام سے گذشتہ پونے چار ماہ سے بڑی کارروائی کررہی ہے ۔اس آپریشن کے ساتھ ساتھ امریکی سی آئی اے نے اپنے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے ذریعے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے گذشتہ ہفتے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں اس وقت دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری ہے،اس لیے اس طرح کے حملوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور امریکا یہ حملے بند کردے کیونکہ پاکستان ان کو اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔

15 جون سے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران پہلے پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے مشتبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کی تھی اور اس کے بعد پاک آرمی نے توپ خانے کے ساتھ زمینی کارروائی شروع کی تھی۔شمالی وزیرستان کا 80 فی صد سے زیادہ علاقہ دہشت گردوں سے پاک کرایا جاچکا ہے۔ان میں شمالی وزیرستان کا صدرمقام میران شاہ ،تحصیل میرعلی اور دتہ خیل تک 80 کلومیٹر تک کا علاقہ شامل ہے۔اب تک غیر ملکیوں سمیت ایک ہزار سے زیادہ مشتبہ جنگجو مارے جاچکے ہیں اور ان کی بارودی سرنگیں تیارکرنے والی متعدد فیکٹریاں تباہ کی جاچکی ہیں۔