.

شامی اپوزیشن فورسز کا درعا کی اہم پہاڑی چوٹی پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم اپوزیشن کی نمائندہ فورسز "جیش الحر" نے درعا کی اہم پہاڑی چوٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق آبزرویٹری کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دمشق کے جنوب میں وادی گولان سے کوئی 12 کلو میٹردور درعا میں صدر بشارالاسد کے وفادار فوجیوں اور اپوزیشن کے عسکری گروپوں کے درمیان پچھلے کئی روز سے گھمسان کی جنگ جاری رہی ہے۔ گذشتہ روز اپوزیشن کے عسکری گروپوں نے دفاعی اہمیت کی حامل پہاڑی چوٹی پر قبضہ کرنے کے بعد سرکاری فوج کو بھگا دیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ درعا کی دفاعی پہاڑی چوٹی پر قبضے کے لیے النصرہ فرنٹ، اسلامی بریگیڈ اور دیگر جنگجو ایک ساتھ لڑ رہے تھے۔ اڑتالیس گھنٹوں تک درعا کی اس بلند چوٹی پر قبضے کے لیے گھمسان کی جنگ ہوتی رہی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن گروپوں نے دمشق کے جنوبی علاقوں میں چالیس کلو میٹر کے علاقے پرقبضہ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق درعا کی چوٹی پر اپوزیشن کے قبضے کے بعد سرکاری فوجیں علاقہ چھوڑ کر فرار ہو چکی ہیں۔ ضلع درعا میں اسرائیل کے زیرتسلط وادی گولان کی طرف بھی شامی اپوزیشن کی پیش قدمی کی اطلاعات ہیں۔

خیال رہے دفاعی اہمیت کے حامل ضلع درعا پر شامی فوج اور اپوزیشن فورسز کے درمیان پچھلے دو سال سے خون ریز لڑائی جاری ہے۔ اپوزیشن نے کئی بار شہر کے اہم مقامات پر قبضہ کیا لیکن یہ عارضی ثابت ہوا ہے تاہم درعا کی پہاڑی چوٹی پرقبضہ نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔