.

مصر:داعش کے چار بھرتی کنندگان گرفتار

گرفتار افراد کو تحقیقات کی تکمیل تک جیل بھیج دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں سکیورٹی فورسز نے عراق اور شام میں برسرپیکار دولتِ اسلامی (داعش) کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے الزام میں ایک سیل کے چار مشتبہ ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایک پولیس عہدے دار نے مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کو بتایا ہے کہ سیل کے گرفتار ارکان نے داعش کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔یہ سیل آٹھ افراد پر مشتمل تھا اور ان میں سے چار اس وقت شام میں ہیں۔ مینا نے گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت نہیں بتائی۔البتہ یہ بتایا ہے کہ انھیں تحقیقات کے مکمل ہونے تک جیل بھیج دیا گیا ہے۔

رائیٹرز نیوزایجنسی کے مطابق داعش نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کے ذریعے مصریوں کی بڑی تعداد کو اپنی صفوں میں شامل ہونے کے لیے راغب کیا ہے۔اس وقت قریباً آٹھ ہزار مصری داعش،القاعدہ اور دوسرے جنگجو گروپوں کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔

مصر نے حال ہی میں امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔مصر کو خود بھی دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس کی سکیورٹی فورسز غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے جزیرہ نما سینا میں جنگجوؤں کے خلاف نبردآزما ہیں۔

سیناء سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ انصار بیت المقدس نے اتوار کو انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس نے مصری حکومت پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ اسرائیل سے مل کر سیناء میں اس کے جنگجوؤں پر حملے کرارہی ہے۔تنظیم نے مصری حکومت کے مقامی مخبروں کو ڈھونڈ نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

اس ویڈیو میں تین افراد کو مخبری کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔پھر نقاب پوش افراد ان کا سرقلم کردیتے ہیں اور ان کے سرتن سے جُدا کرکے پشت پر رکھ دیتے ہیں۔ ویڈیو میں چوتھا شخص مصری فوج کا مخبر ہونے کا اعتراف کررہا ہے اور پھر اس کو گولی مار کر قتل کردیا جاتا ہے۔