.

داعش نے کوبانی کے مشرق میں پرچم لہرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں نے شام کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر کوبانی ( عین العرب) کے مشرقی حصے میں اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے تین ہفتے قبل کرد اکثریتی شہر کوبانی کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی اور انھیں کرد جنگجوؤں کی جانب سے لڑائی میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔رائیٹرز ٹی وی کے نمائندے نے ترکی کے سرحدی علاقے سے کوبانی کی تصاویر لی ہیں جن میں شہر کے مشرق کی جانب واقع ایک چار منزلہ عمارت پر داعش کا سیاہ پرچم لہرا رہا ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اس حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

ترکی کے ایک فوجی افسر نے بھی اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمارت پر لہرایا جانے والا پرچم داعش ہی کا ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر نے دو پرچم لہرائے جانے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ ایک سیاہ پرچم پر عربی الفاظ میں داعش کا مکمل نام لکھا ہوا ہے اور ایک پرچم انھوں نے کوبانی کے مشرقی سمت واقع ایک پہاڑی پر لہرا دیا ہے۔

کوبانی کے علاقے کے نائب وزیرخارجہ ادریس نحسن نے ٹیلی فون کے ذریعے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ داعش کے جنگجوؤں کی شہر کے اندر داخل ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں۔

کردحکام کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے حالیہ دنوں میں شہر کی جانب جنوب اور جنوب مشرق کی سمت مسلسل پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے لیکن انھیں کرد جنگجوؤں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس دوران امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے کوبانی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں داعش پر تباہ کن فضائی حملے کیے ہیں لیکن وہ داعش کی پیش قدمی کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے16 ستمبر کو کوبانی کی جانب چڑھائی کا آغاز کیا تھا۔گذشتہ دوہفتوں میں انھوں نے اس شہر کے قرب وجوار میں واقع سڑسٹھ دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔کوبانی شام میں کرد آبادی پر مشتمل تیسرا بڑا شہر ہے۔اگر اس پر داعش کا قبضہ ہوجاتا ہے تو پھر ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شام کے تمام علاقے پر ان کا کنٹرول قائم ہوجائے گا۔