.

داعش کے ہاتھوں موت کا خوف ہے، روز نماز ادا کرتا ہوں:امریکی یرغمالی

مغوی نے اسلام قبول کر لیا: والدین کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام"داعش" کے چنگل میں پھنسے ایک امریکی پیٹر کاسیگ کا اپنے اہل خانہ کے نام ایک پیغام سامنے آیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ داعش کے ہاتھوں اس کی جان کو خطرہ ہے اور موت کی ڈر سے وہ روزانہ نماز ادا کرتا ہے۔ دوسری جانب مغوی کے والدین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے نے اسلام قبول کرتے ہوئے اپنا نام پیٹر کاسیگ کے بجائے عبدالرحمان رکھ لیا ہے تاہم وہ ابھی تک داعش ہی کی حراست میں ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کے مطابق 26 سالہ کاسیگ نے یہ پیغام جولائی میں اپنے اہل خانہ کو بھیجا تھا۔ گذشتہ جمعہ کو اسے اس ویڈیو فوٹیج میں بھی دکھایا گیا ہے جس میں ایک برطانوی امدادی کارکن آلن ہیننگ کا سرقلم کرتے دکھایا گیا تھا۔

داعش کےہاں یرغمال عراق جنگ میں شامل رہنے والے سابق امریکی فوجی کا کہنا ہےکہ"اگر مجھے قتل کر دیا گیا توہم سب کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں شام میں جنگ زدہ شہریوں کی مدد کے لیے کتنی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے"۔

اپنے اہل خانہ کے نام ایک تحریری پیغام میں مسٹر پیٹر کاسیگ کا کہنا ہے کہ "مجھے یقین ہے کہ داعش مجھے قتل کر دے گی لیکن یہ کب ہو گا اس کا علم نہیں۔ میں مایوس بھی ہوں اور پرامید بھی مگر اس امیدو ویاس میں کئی سوالات پوشیدہ ہیں۔ میں بہت رنجیدہ ہوں اور میری پریشانی کی وجہ سے آپ لوگ بھی غم زدہ ہیں"۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست "انڈیانا" سے تعلق رکھنے والے پیٹر کاسیگ نے سنہ 2012ء میں فوج سے سبکدوشی کے بعد"سیرا" کے نام سے ایک امدادی ادارہ قائم کیا تھا جو جنگ زدہ شہریوں کو طبی امداد بہم پہنچانے کی خدمات انجام دیتا ہے۔ اس نے شام میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے 150 طبی ماہرین اور دیگرعملے کو اپنے ساتھ شامل کیا اور شام چلا گیا تھا جہاں اکتوبر 2013ء کو وہ لاپتا ہو گیا تھا۔

کاسیگ کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا اکتوبر 2013ء کے اوائل سے شام میں لاپتا ہوا۔ گذشتہ جون میں اس کی جانب سے اپنے والدین اور دیگر اقارب کے نام ایک پیغام جاری ہوا جس میں اس نے لکھا کہ "میں روز انہ نماز ادا کرتا ہوں، میں اپنی حالت کے بارے میں پریشان نہیں گوکہ میں پیچیدہ صورت حال کا سامنا کر رہا ہوں۔ اگر میں بچ جاؤں تو اسی حالت میں بہتر ہوں"۔

کاسیگ کے والدین کا کہنا ہے کہ داعش کے چنگل میں گرفتار ان کے بیٹے نےاپنے مکتوب میں نماز کا تذکرہ کر کے یہ اشارہ دیا ہے کہ اس نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ مغوی کے والدین کا مزید کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ان کے بیٹے نے گذشتہ اکتوبر اور دسمبر کے درمیان اسلام قبول کیا ہے۔ اپنی گرفتار کے بعد اس نے رواں سال رمضان کے روزے بھی رکھے ہیں۔ نماز اور روزے کے اہتمام سے اس پر گہرے روحانی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس نے اپنا نام پیٹر کاسیگ کے بجائے عبدالرحمان رکھا ہے اور وہ تمام شعائر اسلام کی سختی سے پابندی کرتا ہے۔