.

شام: کوبانی کی گلیوں میں داعش داخل، لڑائی پھیل گئی

امریکا اور اتحادیوں کی بمباری کے باوجود داعش کی پیش قدمی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے عسکریت پسندوں کی طرف سے کوبانی کے مشرقی حصے میں اپنا پرچم لہرائے جانے کے بعد قصبے کے مغرب اور جنوب میں بھی داعش اور کرد جنگجوں کے درمیان لڑائی پھیل گئی ہے۔

شام کی صورت حال کو مانیٹر کرنے والی لندن میں قائم آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق داعش اور کرد جنگجووں کے درمیان کوبانی کی گلیوں میں لڑائی ہو رہی ہے۔

داعش اس کے باوجود کرد اکثریت کے اس سرحدی قصبے کی طرف پیش قدمی میں کامیاب رہی ہے کہ امریکا اور اتحادیوں نے اس بری طرح نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کوبانی کے جس کا عرب نام عین العرب ہے، کردوں نے داعش کی پیش قدمی کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے تین چار روز قبل ہی کوبانی کی گلیوں میں لڑائی کا فیصلہ کر لیا تھا۔

قصبے کے مشرقی حصے میں داعش کے جنگجو پیر کی شام داخل ہوئے تھے۔ لیکن اب ان کی موجودگی قصبے کے جنوب اور مغرب میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے گلیوں میں لڑائی پھیل گئی ہے۔

رامی عبدالرحمان کے بقول داعش نے قصبے کے جنوبی حصے میں بھی متعدد عمارات پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان عمارات میں قصبے کے مغرب میں ایک زیر تعمیر ہسپتال بھی شامل ہے۔

آبزرویٹری کے سربراہ نے مزید بتایا ہے کہ امریکی اور اتحادی طیاروں نے قصبے کے جنوب مشرقی کنارے پر داعش کو نشانہ بنایا لیکن یہ فضائی کارروائیں زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک کرد مصطفی عبدی نے بھی ان امریکی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ کرد کارکن کے مطابق گلیوں میں لڑائی کے مراکز قصبے کے مشرقی، جنوبی اور مغربی حصے ہیں۔

آبرویٹری نے بتایا پیر کے روز تک کوبانی میں داعش کے 34 اور کردوں کے 16 عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کوبانی کی طرف داعش کی یلغار 3 ہفتے پہلے شروع ہوئی تھی۔

اس قصبے سے ایک لاکھ چھیاسی ہزارکرد باشندے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ قصبہ شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر اہمیت کا حامل ہے۔