.

مصری وزیراعظم، وزیرداخلہ کا ادھورا حج؟

حج پر آئے مصری حکام نے نمازعید صدرالسیسی کے ہمراہ ادا کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں پہلے ہی متنازعہ سمجھے جانے والے وزیراعظم انجینیر ابراہیم محلب اور وزیرداخلہ میجر جنرل محمد ابراہیم کے"ادھورے" حج پر ملک کے مذہبی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ دونوں حکومتی عہدیدار گذشتہ جمعہ کو میدان عرفات میں حجاج کرام میں شامل تھے اور اگلے روز ہفتے کو انہوں‌ نے عیدالاضحی کی نماز صدر فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ قاہرہ میں ادا کی۔

یوں وہ حج کے دیگر مناسب کو چھوڑ کر وطن واپس لوٹ آئے تھے۔ مذہبی حلقوں میں یہ بحث چل نکلی ہے کہ آیا مصری وزیراعظم اور وزیرداخلہ کا حج درست ہوا ہے یا نہیں کیونکہ وہ رمی جمرات، مزدلفہ میں شب بسری، طواف افاضہ اور طواف وداع جیسے حج کے اہم ارکان کی ادائی سے قبل ہی واپس آگئے تھے۔

مصری کابینہ کے ایک ذریعے نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ وزیراعظم محلب اپنا حج مکمل کر کے لوٹے ہیں۔ انہوں نے میدان عرفات میں رکن اعظم کی ادائی کے بعد طواف افاضہ کیا اور رمی جمرات کے لیے اپنی جانب سے ایک دوسرے ساتھی کی ذمہ داری لگائی تھی، جس نے وزیراعظم کی جانب سے بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں۔

ملک کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالحی کی جانب سے بھی وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے 'ادھورے حج' پر انہیں رعایت دینے کی کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر عبدالحئی کا کہنا ہے کہ جمہور فقہا کے نزدیک وقوف عرفہ حج کا اہم ترین رُکن ہے۔ اگر کوئی شخص خود یہ رکن ادا کرنے کے بعد دیگر مناسب اپنی طرف سے کسی دوسرے کے ذمہ لگا دے اور کسی عذرکی وجہ سے خود نہ کر سکے تو حج ہو جاتا ہے۔

البتہ جامعہ الازھر میں تقابل ادیان کے استاذ پروفیسر الشیخ احمد کریمہ نے وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے حج کو باطل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور وزیرداخلہ طواف افاضہ، رمی جمرات اور قربانی جیسے اہم فرائض خود ادا نہیں کر سکے ہیں۔ اس لیے ان کا حج نہیں ہوا۔ انہوں‌ نے کہا کہ خود حج کرنے کی استطاعت رکھنے والے افراد کسی دوسرے کو اپنا وکیل نہیں بنا سکتے ہیں اور نہ ہی حکومتی عمال کی سہولت کے لیے دین کی بنیادی تعلیمات میں تبدیلی کے فتوؤں کا کوئی جواز ہے۔