.

لبنان: اسلحے کے لیے ایک ارب ڈالر کی سعودی امداد

داعش کے خلاف اتحادیوں کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے، سعد الحریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوج کو سعودی عرب کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم کا اسلحہ جلد فراہم کر دیا جائے گا تاکہ لبنان اپنے ان انتہا پسندوں سے لڑ سکے جو شام سے لبنان کی طرف آنا چاہتے ہیں۔

سابق وزیراعظم سعد الحریری نے اس بارے میں بتایا ہے کہ یہ معاملہ ماہ اگست میں شاہ عبداللہ سے ملاقات کے موقع پر طے پایا تھا۔ سعد الحریری سعودی عرب حکمران خاندان کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔

اس ملاقات سے محض چند روز پہلے داعش کے جنگجووں نے لبنانی سرحد کے قریب ارسل نامی قصبے پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت سے لبنانی فوج دفاعی ضرورتوں کے لیے کوشاں ہے۔

القاعدہ اور النصرہ فرنٹ کے اکثر قائدین کی لبنان میں آمد کو روکنےکے لیے لبنانی فوج سرگرم ہے۔ تاہم اس کے باوجود شامی باغیوں کے لبنانی سرحد پر حملہ آور ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں۔

سعدالحریری نے اس صورتحال میں عالمی برادری اور داعش کے خلاف اتحاد میں شریک ملکوں کو یہ باور کرنے کی کوشش کی ہے کہ لبنانی فوج کے پاس دہشت گردوں کے مقابلے کے لیے کافی وسائل نہیں ہیں۔ سعد الحریری کے مطابق "عالمی اتحاد کو داعش کے خلاف مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔"

واضح رہے امریکا عراق میں ماہ اگست سے داعش کے خلاف فضائی کارروائیں کر رہا ہے۔ اب عرب ریاستں بھی داعش مخالف اتحاد کا حصہ بن چکی ہیں اور عراق کے علاوہ شام میں بھی داعش کے ٹھکانے نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔

سعد الحریری نے کہا "اب تک کی جانے والی تمام کوششوں کے باوجود داعش کی پیش قدمی جاری ہے، اس لیے داعش مخالف قوتوں کو مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، ضروری ہے کہ داعش کے خلاف سخت کارروائیوں کے علاوہ منظم انداز میں متحرک ہوا جائے۔"

سابق وزیراعظم لبنان سعد الحریری ان دنوں پیرس میں ہیں جہاں وہ فرانس کے صدر اولاندے سے ایک ارب ڈالر کی ڈیل اور دوسرے معاہدے کے لیے بات کرنے والے ہیں۔ دوسری ڈیل کے لیے سعودی عرب نے لبنان کو فرانسیسی اسلحے کے واسطے تین ارب ڈالر دینے کا عندیہ دیا ہے۔

متعلقہ حکام کے مطابق سہ فریقی ڈیل کی وجہ سے تاخیر فطری ہے۔ تاہم فرانس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس میں کمیشن کے بھی مسائل موجود ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ لبنان کے نئے صدر یہ یقین دہانی کرائیں کہ یہ اسلحہ حزب اللہ کے ہاتھ میں نہیں جائے گا۔