.

مسجد اقصیٰ: اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں 17 فلسطینی زخمی

فلسطینی یہودیوں کی مسجد میں آمد پر احتجاج کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد اقصیٰ میں اس وقت اسرائیلی پولیس نے 17 مسلمانوں کو زخمی کردیا جب وہ یہودیوں کے تہوار سے ایک روز قبل یہودیوں کی مسجد آمد پر احتجاج کر رہے تھے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان لوبا سامری کے بقول فلسطینی نوجوانوں نے پولیس پر پتھراو اور فائرنگ کی اور یہودی زائرین کو مسجد کی طرف آنے سے روکنے کی کوشش کی۔

پولیس نے اس موقع پر مسجد کے ان حصوں کو بند کر دیا جہا ں سے فلسطینی پتھراو کر رہے تھے۔ پولیس ترجمان کے مطابق فلسطینی نوجوانوں نے پٹرول بم بھی استعمال کیے، جس کی وجہ سے چار افراد معمولی زخمی ہو گئے۔

اس موقع پر پولیس نے پانچ مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں 17 فلسطینی زخمی ہوگئے۔

اسلامی اوقاف کے ڈائریکٹر عظام الخطیب نے کہا ہے "پولیس کو یہودیوں کو مسجد میں آنے سے روکنا چاہیے تھا تاکہ تصادم روکا جا سکتا، لیکن پولیس نے یہودیوں کوروکنے سے انکار کر دیا تھا جس کا نتیجہ تصادم کی صورت میں نکل آیا۔"

واضح رہے مسلمانوں کی تیسری مقدس ترین مسجد اقصیٰ کے قرب و جوار میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان اکثر تصادم ہوتا رہتا ہے۔ مسجد اقصیٰ میں غیر مسلموں آنے کی اجازت ہے تاہم یہودیوں کو مسجد میں عبادت کیا اجازت نہیں ہے ۔

صرف ایک روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پولیس کو سخت ہدایات جاری کی تھیں کہ مسجد اقصیٰ کے آس پاس بھاری نفری تعینات کی جائے تاکہ فلسطینی کوئی مظاہرہ نہ کر سکیں۔