.

آسٹریلیا میں‌ لاپتا سعودی طالب علم کی داعش میں شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت آسٹریلیا میں حصول تعلیم کے لیے گئے ایک طالب علم کی گم شدگی کے بارے میں چھان بین کر رہی ہے۔ دوسری جانب لاپتا طالب علم مشعل کے بھائی محمد السمیحی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا ہے کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ اس کا بھائی دولت اسلامی"داعش" یا کسی دوسرے شامی جہادی گروپ میں شامل ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ عیدالاضحیٰ سے تین روز پیشتر سعودی طالب علم مشعل السمیحی سے آسٹریلیا میں رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ اس کے خاندان نے رابطے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن کوئی پتا نہیں چل سکا۔ مشعل کا اپنا موبائل فون بند ہے۔ اہل خانہ نے سعودی عرب میں قائم آسٹریلیا، ترکی، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کے سفارت خانوں سے بھی رابط کر کے اس کے بارے میں جان کاری کی کوشش کی مگرکہیں سے بھی اس کے بارے میں‌معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

لاپتا سعودی لڑکے کے بھائی محمد السمیحی نے بتایا کہ انہیں آسٹریلیا میں مشعل السمیحی کے ایک دوست کا پتا چلا جس کے ذریعے انہوں‌ نے مشعل کی رہائش گاہ پر جا کر معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن معلوم ہوا کہ وہ وہاں پر نہیں بلکہ کسی جہادی گروپ میں شامل ہونے کے لیے وہاں سے چلا گیا ہے۔ مشعل کے دوست نے اس کی داعش یا کسی بھی دوسرے گروپ میں شمولیت کی کچھ تصاویر بھی ارسال کی ہیں۔ جن سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ رہی ہے کہ مشعل کی گم شدگی کی وجہ اس کا جہادی گروپ میًں شامل ہونا ہے۔ مشعل کے دوست کے ذریعے ملنے والی تصاویر میں اسے ایک میدان جنگ میں دکھایا گیا ہے۔

لاپتا سعودی نوجوان کے اہل خانہ کے ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ مشعل چھ ماہ قبل آسٹریلیا تعلیم کے حصول کی غرض سے گیا تھا جہاں اس نے تین ماہ تک تعلیم حاصل کی، لیکن بعدا زاں اس کی کچھ مشکوک سرگرمیوں کا بھی پتا چلا تھا۔ اس دوران اس نے اپنی والدہ کو ایک خط کے ذریعے جہادی تنظیم میں شامل ہونے کے ارادے سے آگاہ کیا اور والدہ سے اس کی اجازت بھی طلب کی تھی۔ تاہم مصدقہ ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

کنیبرا میں پچھلے دو ہفتے سے سعودی سفارت خانہ بھی لاپتا طالب علم کی تلاش کے لیے کوشاں‌ ہے تاہم اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔