.

جیش الحُر:حزب اللہ کے گرفتار جنگجو کی ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے منحرف فوجیوں اور حکومت مخالف باغیوں پر مشتمل جیش الحُر نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ جنگجو کو گرفتار کر لیا ہے اور اس کی انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے۔

ویڈیو میں اس شخص نے اپنا نام عماد ایاد بتایا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کا رکن ہے اور اس کو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغیوں سے جنگ کے لیے بھیجا گیا تھا۔

اس کا کہنا ہے کہ وہ شام اور لبنان کے درمیان سرحد پر ایک پوزیشن کی حفاظت پر مامور تھا۔شام کے سرحدی قصبے اصل الورد کے نزدیک ایک پوسٹ پر وہ چار شامیوں اور دو لبنانی جنگجوؤں کے ساتھ تعینات تھا۔اس نے انکشاف کیا ہے کہ شامی فوجی حزب اللہ کے کمانڈروں سے احکامات لیتے ہیں۔

اس گرفتار شخص نے مزید بتایا ہے کہ اصل الورد میں حزب اللہ کے دو سو جنگجو تعینات تھے۔اس نے حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ ''لڑائی میں ہم جب زخمی ہوئے تو ہمارے انچارج ہمیں اسی حالت میں وہاں چھوڑ کر چلے گئے تھے''۔

وہ بتارہا ہے کہ ''وہ اس وقت جیش الحر کے ہاتھوں میں ہے اور وہ اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کررہے ہیں''۔اس نے اپنے باپ کے نام پیغام میں کہا ہے کہ ''اگر جیش الحُر سے تعلق رکھنے والا کوئی آپ سے رابطہ کرے تو ان کے مطالبات کو پورا کیا جائے''۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے شام میں القاعدہ سےوابستہ گروپ النصرۃ محاذ کے ساتھ شدید لڑائی میں حزب اللہ کے دس جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔شام میں جاری خانہ جنگی میں کُودنے کے بعد کسی ایک واقعے میں لبنانی تنظیم کا یہ سب سےزیادہ جانی نقصان تھا۔