.

مظاہروں سے کرد مذاکراتی عمل متاثر ہو گا، طیب ایردوآن

"امن کے لیے خطرہ بننے والوں کو برداشت نہیں کریں گے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ترکی میں جاری مظاہروں سے کردوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کرد مظاہرین ان دنوں داعش کے بارے میں ترک حکومت کی پالیسی اور شامی کردوں کو اسلحہ فراہم نہ کرنے پر احتجاج کر رہے ہیں۔

ترک صدر نے کہا "مظاہروں کے حوالے سے جاری صورت حال ملک کے مشرقی اور جنوب مشرقی حصوں میں بگاڑ کا باعث بننے کے علاوہ کردوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔"

طیب ایردوآن کا پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران مظاہروں کی وجہ سے ہونے والی 22 ہلاکتوں کے بعد یہ پہلا بیان سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کرد مظاہرین اس امر پر ناراض ہیں کہ ترک حکومت شام میں داعش کے خلاف اور کردوں کے حق میں کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے کرد سرحدی قصبے کوبانی پر داعش کے قبضے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

طیب ایردوآن نے کہا "ترکی کے امن اور استحکام کے لیے کسی کو خطرہ نہیں بننے دیا جائے گا، نہ ہی ایسے کسی عمل کو برداشت کیا جائےگا۔"

ترک ایوان صدر سے جاری کیے گئے طیب ایردوآن کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ملکی امن اور سلامتی کے خلاف حرکت کرنے والوں کے خلاف ضروری ہوا تو سخت اقدامات کیے جائیں گے۔"

صدر کے بیان میں "درپردہ حلقوں" کو انسانی جانوں کے ضیاع اور خونریزی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔